انقلابی ڈیزائن کا مسافر طیارہ، ایندھن کا خرچ 20 فیصد کم

کچھ عرصہ قبل برلن کی ٹفٹس یونیورسٹی کے ایک طالب علم جسٹس بینڈ نے نے کمرشل مسافر طیاروں کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے وی صورت کے ایک جہاز کا ڈیزائن بنایا تھا جو ہوا کی رکاوٹ کو 10 فیصد کم کرتا ہے، دیگر کے مقابلے میں اس کی کمیت دو فیصد تک کم ہوگی، اس کا شورکم ہوگا اور…
دلچسپ بات یہ ہے کہ وی صورت کا انقلابی طیارہ اے 350 جیسے طیارے جتنے مسافر لے جاسکے گا اور سامان اٹھانے پر بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔ اب کے ایل ایم اور ڈیلفٹ یونیورسٹی اس طیارے کو بنانے میں بہت سنجیدہ ہے اور پہلے مرحلے میں کچھ ماڈل تیار کیے گئے ہیں۔
 ڈیلفٹ ٹیکنکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر روئلوف ووس کہتے ہیں کہ اپنی جسامت اور خاص ڈیزائن کی وجہ سے پرواز کے دوران طیارے کو ہوا کی کم مزاحمت کا سامنا ہوگا اور اسی فاصلے تک پرواز کے لیے ایندھن کی ضرورت بھی کم ہوگی۔
منصوبے کے تحت طیارے کی لمبائی 55 میٹر، اونچائی 17 میٹر اور بازوؤں کا گھیر 65 میٹر ہوگا۔ یہ 314 مسافروں کو منزل تک لے جاسکے گا۔ مٹی کا تیل استعمال بطور ایندھن استعمال کرنے والا یہ طیارہ ماحول دوست ہوگا اور اس کے سب سے اہم بات کم ایندھن کا استعمال ہے۔
لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ طیارہ واقعی فضا میں پرواز بھی کرسکے گا یا نہیں؟ اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔ اس ضمن میں ریڈیو سے کنٹرول ہونے والا چھوٹا ماڈل بناکر آزمائش سے گزارا جاچکا ہے جس کے تسلی بخش نتائج مرتب ہوئے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں