میگامنی لانڈرنگ کیس،اسلام آبادہائیکورٹ نے آصف زرداری کی درخواست ضمانت مستردکردی

اسلام آباد( آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے میگامنی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنادیا ،عدالت نے آصف زرداری اورفریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی،سابق صدر آصف زرداری اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ فیصلہ آنے سے قبل عدالت سے جا چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے میگامنی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت پر توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت کی،ملزمان آصف زرداری اورفریال تالپور اپنے وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی ایف آئی آر میں 29 اکاو¿نٹس ٹریس ہوئے،میگا منی لانڈرنگ کیس میں ساڑھے 4 ارب کی ٹرانزیکشن ہوئی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اے ون انٹرنیشنل ،عمیرایسوسی ایٹس سے اربوں کی ٹرانزیکشن ہوئی،اکاؤنٹس کیساتھ زرداری گروپ اورپارتھینون کمپنیوں کی ٹرانزیکشن ہوئی،یہ 29 میں سے صرف ایک اکاو¿نٹ کی تفصیل ہے،دیگر 28 اکاؤنٹس کی تفتیش جاری ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کے پاس تفتیش کیلئے ملزم کی گرفتاری کامکمل اختیارہے،نیب نے تمام حقائق کی کھوج لگانی ہے،طلعت اسحاق کیس میں سپریم کورٹ نے نیب کوملزم کی گرفتاری کا اختیار دیا۔

ضرور پڑھیں: نیب کی ٹیم آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئی
جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ تمام اختیارات تو ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ضمانت قبل ازگرفتاری کیلئے غیرمعمولی حالات اورہارڈشپ کاسہارالیاجاسکتاہے،آصف زرداری نے غیرمعمولی حالات اورہارڈ شپ کا سہارانہیں لیا،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ آصف زرداری کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے،سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں یہ ضمانت کی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں،عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کی جائیں۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن 4سماعتوں سے4 اعشاریہ 4 بلین کی بات کر رہی ہے،زرداری گروپ کو اس میں سے صرف ڈیڑھ کروڑ روپیہ منتقل ہوا،پراسیکیوشن کے دستاویزات سے تصدیق شدہ ہے کہ اے ون اومنی گروپ کا اکاو¿نٹ ہے،میرا اس اکاو¿نٹ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اکاوَنٹ کھولنے میں کوئی کردار۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چالان میں یہ الزام ہے کہ زرداری گروپ کو 3کروڑ روپے منتقل ہوئے، یہ رقم بینک سے بینک کو منتقل ہوئی اور اس میں کوئی بات چھپائی نہیں گئی، آصف زرداری کو ایف آئی آر میں ملزم قرار دیا گیا نہ ہی انکا کردار بتایا گیا،آصف زرداری کااکاو¿نٹ سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اکاوَنٹ کھولنے میں کوئی کردار۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو 2ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، 2ماہ تک ریفرنس دائر نہیں ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے وقت میں توسیع کی، توسیع نہ ہونے کے بعد نیب کی تفتیش کا اختیار ختم ہو جاتا ہے،سابق صدر نے وکیل نے کہاکہ نیب کی تمام کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، نیب نے اس کیس میں آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں،اس کیس میں وارنٹ جاری کرنا چیئرمین نیب کا اختیار نہیں ہے۔

آصف زرداری دوران سماعت اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم پر آ گئے،سابق صدراپنے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کر کے دوبارہ اپنی نشست پر چلے گئے۔

فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جب ریفرنس منتقل ہو گیا تو تفتیشی رپورٹ بھی اس کے ساتھ منتقل ہوئی،چیئرمین نیب کے پاس اب کوئی اختیار نہیں کہ وہ وارنٹ جاری کریں،ریفرنس جب احتساب عدالت کو منتقل ہو گیا تو چیئرمین نیب کے پاس اختیار نہیں،آئین میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے میگامنی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنادیا ،عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی اور نیب کو گرفتار کرنے کی اجازت دیدی،سابق صدر آصف زرداری اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ فیصلہ آنے سے قبل عدالت سے جا چکے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں