مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

اسلام آباد (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیےاپنا پہلا سالانہ بجٹ پیش کر دیا، بجٹ کا حجم70 کھرب 36 ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے،ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص جبکہ 1120 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرکے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 55 سو ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد زائد ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا،بجٹ میں وفاقی وزراؤں کی تنخواؤں میں 10 فیصد کمی،گریڈ ایک سے 16 کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ،کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویز،نائن فائلر کے لیے جائیداد کی خریداری پر پابندی ختم، چینی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ،مشروبات،دالوں، گوشت،خوردنی تیل،سیمنٹ،سیگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ،اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے روپے مختص،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار،زراعت کی ترقی کے لئے خصوصی اقدامات کا اعلان۔

سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میںوزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نےمالی سال 20-2019 تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا ،اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ہنگامہ آرائی کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سابق صدر آصف زرداری کی گرفتاری کے خلاف اجلاس میں سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ، اپوزیشن اراکین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،وہ بجٹ تقریر کے دوران اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کرتے رہے ،بعد ازاں اپوزیشن اراکین نے سپیکر قومی اسمبلی کے ڈائس کے سامنے آکر شدید احتجاج کیا،اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً بجٹ اجلاس کی کاپیاں پھاڑ دیں،اراکین نے آئی ایم ایف بجٹ نامنظور اور گو عمران گو کے نعرے بھی لگائے۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہناتھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے، یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے، 1973 میں ہم ایک ساتھ ملے اور ملک کا آئین بنا، ہم اس ملک کے آئین کے محافظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

حماد اظہر نے بتایا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور ملک کا مالیاتی خسارہ 2260 ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکا تھا۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔

مالی سال 2019-20 کے بجٹ تخمینے

مالی سال 2019-20 کیلئے بجٹ تخمینہ 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو جاری مالی سال کے نظر ثانی شدہ بجٹ 5 ہزار 385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ میں آمدنی کا تخمینہ 6 ہزار 717 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال کے 5 ہزار 661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کے ذریعے 5 ہزار 555 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جس کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے۔ وفاقی ریونیو کلیکشن میں سے 3 ہزار 255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو جائیں گے جو کہ موجودہ مالی سال کے 2 ہزار 465 ارب روپے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہیں۔ آئندہ مالی سال 2019-20 کیلئے نیٹ فیڈرل ریونیوز کی مد میں 3 ہزار 462 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو رواں مالی سال 2018-19 کے 3 ہزار 70 ارب روپے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔

وفاقی بجٹ کا خسارہ 3 ہزار 560 ارب روپے ہوگا، مالی سال 2019-20 کیلئے صوبائی سرپلس کا تخمینہ 423 ارب روپے ہے ۔ مالی سال 2019-20 کے لیے مجموعی مالی خسارہ 3 ہزار 137 ارب یا جی ڈی پی کے 7 اعشاریہ ایک فیصد ہوگا جو کہ مالی سال 2018-19 میں جی ڈی پی کے 7 اعشاریہ 2 فیصد تھا۔

ٹیکس وصولیوں میں اضافہ

بجٹ 2019-20ءمیں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد سے بھی کم ہے جو علاقے میں سب سے کم ہے۔ صرف 20 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں سے چھ لاکھ ملازمین ہیں۔ صرف 380 کمپنیاں کل ٹیکس کا 80 فیصد سے بھی زیادہ ادا کرتی ہیں، کل تین لاکھ 39 ہزار بجلی اور گیس کے کنکشن ہیں جبکہ 40 ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس طرح کل 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، بینکوں کے مجموعی طور پر تقریباً پانچ کروڑ اکاﺅنٹ ہیں جن میں سے صرف 10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔ بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے، نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہو گا، جب تک ہم اپنے ٹیکس کے نظام کو بہتر نہیں کریں گے، پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

ضرور پڑھیں: نوازشریف کی طبی بنیاد پر درخواست ضمانت ،نیب کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت برہم،ڈی جی نیب آئندہ سماعت پر طلب
تاریخی طور پر ہم نے صحت، تعلیم، پینے کے پانی، شہری سہولیات اور لوگوں سے متعلق کسی بھی چیز پر مطلوبہ اخراجات نہیں کئے۔ اب اس مقام پر آ چکے ہیں کہ قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لینا پڑتا ہے، اس صورتحال کو بدلنا ہو گا۔ سول اور عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی، اس کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کر کے 437 ارب روپے کئے جا رہے ہیں جو کہ پانچ فیصد کمی ہے، عسکری بجٹ 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا، بچت کے ان مشکل فیصلوں کیلئے میں وزیراعظم عمران خان کے تدبرا ور عسکری قیادت خصوصا آرمی چیف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں یہاں واضح کرنا چاہوں گا کہ ان کا دفاع اور قومی خودمختاری ہر شے پر مقدم ہے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اپنے وطن اور لوگوں کے دفاع کیلئے پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔

کمزور طبقوں کا تحفظ

بجلی کے صارفین میں تقریباً 75 فیصد ایسے ہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے بھی کم استعمال کرتے ہیں، حکومت ایسے صارفین کو لاگت سے بھی کم نرخوں پر بجلی فراہم کرے گی جس کیلئے 200 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی اور ان پر عملدرآمد کرے گی۔ احساس پروگرام سے مدد حاصل کرنے والوں میں انتہائی غریب، یتیم، بیوائیں، بے گھر ، معذر اور بیروزگار شامل ہیں، 10 لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کیلئے ایک نئی راشن کارڈ سکیم شروع کی جا رہی ہے۔ ماﺅں اور بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک مہیا کی جائے گی، 80 ہزار مستحق لوگوں کو ہر مہینے بلاسود قرضے دئیے جائیں گے۔ 60 لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکاﺅنٹ میں وظائف میں فراہمی اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی۔ 500 کفالت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت میسر کی جائے گی۔ معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات فراہم کئے جائیں گے، تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع میں والدین کے بچوں کو سکول بھیجنے کیلئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی۔ عمررسیدہ افراد کیلئے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، احساس پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو 5 ہزار روپے فی سہ ماہی نقد امداد دی جاتی ہے جس کیلئے 110 ارب روپے کا بجٹ مقرر ہے۔ افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سہ ماہی وظیفے کو 5000 ہزار روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غریبوں کی نشاندہی کرنے کیلئے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، یہ کام مئی 2020 ءتک مکمل کر لیا جائے گا اور اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا۔ 50 اضلاع میں بی آئی ایس پی سے مدد حاصل کرنے والے خاندانوں کے 32 لاکھ بچے 750 روپے فی سہ ماہی وظیفہ حاصل کرتے ہیں جس کا مقصد سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے۔

صحت سہولت

اس پروگرام کے تحت غریبوں کو صحت کی انشورنس فراہم کی جاتی ہے اور مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں جن سے وہ پورے پاکستان سے منتخب کردہ 270 ہسپتالوں سے کسی بھی 7 لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ تک علاج کروا سکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ خاندانوں کو یہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اگلے مرحلے میں اس پروگرام کو ڈیڑھ کروڑ انتہائی غریب اور پسماندہ خاندانوں تک پھیلا یا جائے گا، اس پروگرام کا اطلاق پاکستان کے تمام اضلاع بشمول ضلع تھرپارکر اور خیبرپختونخواہ کے نئے اضلاع، معذورں اور ان کے خاندانوں پر ہو گا۔

آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت غذائیت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی وغیرہ کیلئے 93 ارب روپے مختص کرے گی، کم آمدن افراد کو سستے گھر بنا کر دینے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمی تبدیلی کی تلافی کرنے کیلئے بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو لیکن اگر عالمی منڈیوں میں قیمتیں اوپر جانے والی وجہ سے ہمیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ ذدیا جائے، اس وجہ سے ہم نے کمزور طبقات کو سماجی تحفظ کی فراہمی کیلئے بجٹ مقرر کیا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ دیا جائے، اس وجہ سے ہم نے کمزور طبقات کو سماجی تحفظ کی فراہمی کیلئے بجٹ مقرر کیا ہے، قیمتوں میں استحکام ہمارے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، ہم مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے انتظامی اقدامات کی بدولت قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کریں گے۔ اس حوالے سے حکومت 2019-20ءمیں مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی۔

بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے قرض حاصل کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت اب یہ سہولت استعمال نہیں کرے گی۔ افراط زر کیلئے ہمارا وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، اس کے علاوہ ہم اچھی حکمرانی پر توجہ دیں گے اوربدعنوانی کے مقابلے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو خودمختاری دیں گے اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے اور ان کی قیادت کا انتخاب قابلیت کی بنیاد پر کریں گے۔ 2019-20ءمعیشت کے استحکام کا سال ہو گا، تبدیلی کا یہ مشکل مرحلہ ہم کم سے کم وقت میں پورا کرنا چاہتے ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پر مشکل فیصلوں کے اثرات کم سے کم ہوں۔

ترقیاتی بجٹ

ضرور پڑھیں: ”عمران خان کو ایک چیز کا بہت نقصان ہو گا “حامد میر نے نہایت حیران کن انکشاف کر دیا
ترقیاتی بجٹ کے ذریعے معاشی ترقی میں مدد دینے والے انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کی تعمیر، معاشی ترقی، علاقائی ربط اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سال قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے تقریباً 1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے رکھے گئے ہیں جبکہ موجودہ سال میں یہ بجٹ 500 ارب روپے تھا۔ ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں پانی کا نظام، نالج اکانومی کا قیام، بجلی کی ترسیل و تقسیم بہتر بنانا، کم لاگت پن بجلی کی پیداوار، سی پیک، انسانی و سماجی ترقی میں سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ شامل ہیں۔ ان میں درجہ ذیل اہم ہیں۔

آبی وسائل کے بہتر استعمال کیلئے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی بنیادی توجہ بڑے ڈیموں اور ناکاسی آب کے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اس غرض سے بجٹ میں 70 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم کیلئے زمین حاصل کرنے کیلئے 20 ارب روپے اور مہمند ڈیم ہائیڈل پاور کیلئے 15 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔

سڑک اور ریل

ان میں سے کچھ منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا بھی حصہ ہیں اس غرض سے تقریباً 200 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جن میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کئے جائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ میں جو اہم منصوبے شامل ہیں وہ یہ ہیں۔

حویلیاں شاہ کوٹ سڑکو کیلئے 24 ارب روپے، برہان ہکلہ موٹروے کیلئے 13 ارب روپے، پشاور کراچی موٹروے کے سکھر ملتان سیکشن کیلئے 19 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سوات ایکسپریس وے کو چکدرہ سے باغ بھیری تک توسیع دی جائے گی۔ سمبڑیال، کھاریاں موٹروے تعمیر کی جائے گی اور میانوالی تا مظفرگڑھ دو رویہ سڑک تعمیر کی جائے گی۔

توانائی
اس شعبے میں 80 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 55 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

انسانی ترقی

ائٓندہ سال کے بجٹ میں انسانی ترقی کیلئے تقریباً 60 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف کا حصول اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے انتظامات ان اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں جن کیلئے سال 2019-20ءمیں فنڈز خرچ کئے جائیں گے۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے 45 ارب روپے کا ریکارڈ فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔

زراعت

زراعت صوبائی محکمہ ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کیساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔وفاقی ترقیاتی پروگرام میں اس مقصد کیلئے 12 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

کوئٹہ اور کراچی کا ترقیاتی پیکیج

بلوچستان کی ترقی کیلئے حکومت نے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور سڑکوں کے وفاقی منصوبوں کے علاوہ ہے۔ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے ۔

بیروزگاری کا خاتمہ

روزگار پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، یہ نوجوانوں کا ملک ہے، روزگار تلاش کرنے والے نوجوان مرد عورتوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے، ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا ، اس سلسلے میں اٹھائے گئے چند اقدامات یہ ہیں۔

وزیراعظم کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہو گا اور بیروزگاروں کیلئے کام نکلے گا، اس مقصد کیلئے لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد اور فیصل آباد میں زمین حاصل کر لی گئی ہے اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں، اب یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، اس سے کم آمدنی والے لوگوں کو چھت میسر آئے گی، معیشت کا پہیہ چلے متعلقہ انفراسٹرکچر بنے گا اور بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے 25 ہزار اور بلوچستان میں ایک لاکھ دس ہزار ہاﺅسنگ یونٹس کا افتتاح کیا ہے۔ جس میں ماہی گیروں کیلئے کم قیمت ہاﺅسنگ سہولیات بھی شامل ہیں۔ کامیاب جوان پروگرام پروگرام کے تحت نیا کاروبار کرنے اور موجودہ کاروبار کو مزید پھیلانے کیلئے سستے قرضے دئیے جاتے ہیں، اس سکیم کے تحت 100 ارب روپے کے قرضے دئیے جائیں گے۔ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے حکومت صنعتی شعبے کو بہت سی مراعات اورسبسڈیز دے رہی ہے جن میں یہ اقدامات شامل ہیں۔بجلی اور گیس کیلئے چالیس ارب روپے کی سبسڈی، برآمدی شعبے کیلئے چالیس ارب روپے کا پیکیج، حکومت لانگ ٹرم ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھے گی۔

زرعی شعبہ

اس سال زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے، ز رعی شعبے کو اوپر اٹھانے کیلئے صوبائی حکومتوں سے مل کر 280 ارب روپے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، اس پروگرام کے چند اہم نکات یہ ہیں۔ پانی سے زیادہ پیداوار کیلئے پانی کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا جس میں پانی کی کفایت کے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔ اس کے تحت 218 ارب کے منصوبوں پر کام ہو گا، گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے 44.8 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ مچھلی کے پوٹینشل سے استفادہ کرنے کیلئے کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کے ٹراﺅٹ کی فارمنگ کے منصوبوں کیلئے 9.3 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کیلئے گھریلو مرغ بانی اور بھینس کے بچے کو پالنے کی حوصلہ افزائی کیلئے 5.6 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بجٹ 2019-20ءمیں یہ تجاویز شامل ہیں۔ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعائتی نرخ دئیے جائیں گے، بلوچستان کے کسانوں کیلئے اور صوبائی حکومتوں نے 40-60 کے تناسب سے مشترکہ سکیم شروع کی ہے جس کے تحت کسان صرف دس ہزار روپے مہینہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 75 ہزار روپے تک کا اضافی بل دونوں حکومتیں اٹھا رہی ہیں۔ چھوٹے کسان کیلئے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کیلئے انشورنس سکیم مہیا کی جا رہی ہے، اس مقصد کیلئے 2019-20ءکے بجٹ میں ڈھائی ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

سرکاری اداروں کا اصلاحی پروگرام

ہر سال حکومتی اداروں میں زبردست گھاٹا پڑتا ہے اور یہ نقصان معیشت کی پیداواری صلاحیت، جدت ترازی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ شعبہ حکومت کے اصلاحی پروگرام کا اہم جزو ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک تفصیلی پروگرام پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سال ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے دو ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔ پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کیلئے بیرونی سرمایہ کاروں سے رابطے کئے گئے ہیں اور موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب ڈالر متوقع ہے، اس وقت بجلی کا گردشی قرضہ 1.6 کھرب روپے ہے، اس طرح گیس کا 150 ارب روپے ہے، گردشی قرضہ بلوں کی وصولی نہ ہونے اور ترسیل و تقسیم کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی وجہ سے جمع ہوتا ہے، گردشی قرضے کی وجہ سے حکومت مہنگا قرضہ لے کر ان غیر فعال کمپنیز کو چلانے پر مجبور ہوتی ہے، اس مسئلے کے حل کیلئے موجودہ حکومت نے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔

بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی تاکہ صارف پر اس کا اثر کم سے کم ہو ، بجلی کا بل نہ دینے اور چوری کرنے والوں کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی ہے جس کی بدولت پچھلے چھ ماہ میں 80 ارب روپے وصول کئے گئے، تقریباً 3000 میگاواٹ بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے 80 فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے۔ مالی مشکلات دور کرنے کیلئے حکومت سبسڈی کے بقایہ جات کی ادائیگی کر رہی ہے۔ اوپر بیان کئے گئے بیان کی بدولت گردشی قرضے میں اضافہ 38 ارب روپے ماہانہ سے کم ہو کر 24 ارب روپے رہ گیا ہے۔ اگلے چوبیس ماہ میں ایسے اقدامات سے گردشی قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کی بدولت سے توانائی کا نظام یکسر بدل جائے گا۔

خیبرپختونخواہ میں ضم ہونے والے اضلاع

وفاقی حکومت خیبرپختونخواہ میں نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کیلئے 152 ارب روپے فراہم کرے گی۔ اس میں دس سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کیلئے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی، یہ 10 سالہ پیکیج ایک کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری

ہماری مستقل ترجیح ہے جس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کئے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی اکنامک زونز بنانے کے ذریعے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہیں۔ ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے ایم ایل ون منصوبے کیلئے رقم مختص کی گئی ہے۔

اینٹی منی لانڈرنگ

منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے، اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے ایک بالکل نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کیلئے مانیٹری پالیسی بنانے کی وسیع تر خود مختاری دی جا رہی ہے۔ ٹریژری سنگل اکاﺅنٹ بنایا گیا ہے اور حکومت رقوم کمرشل بینک اکاﺅنٹ میں رکھنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔

سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف

وفاقی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کیلئے یہ ریلیف اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں۔ سول حکومت کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین اور افواج پاکستان کے تمام ملازمین کو 2017ءکے بی پی ایس کے مطابق جاری بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا۔ گریڈ 17 سے 20 تک کے سول ملازمین کو پانچ فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا۔ گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گاکیونکہ انہوں نے ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کی خاطر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پنشنرز کی نیٹ پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ معذور ملازمین کا سپیشل کنوینس الاﺅنس ایک ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر دو ہزار روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے۔ وزرائ، وزراءمملکت، پارلیمانی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کیساتھ کام کرنے والے سپیشل پرائیویٹ سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹری اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی سپیشل الاﺅنس اور تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

میں یہ فخر سے بتانا چاہوں گا کہ کابینہ کے تمام وزراءنے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اپنی تنخواہوں میں 10 فیصد رضاکارانہ کمی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ جہاں پر ماضی میں یہ روایت رہی کہ کابینہ اپنی تنخواہیں بڑھاتی تھی، پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کابینہ نے رضاکارانہ طور پر 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ کم از کم تنخواہ بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔

جناب سپیکر! مالی سال 2019-20ءکیلئے بجٹ تخمینہ 7022 ارب روپے ہے جو کہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 5385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20ءکیلئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6717 ارب روپے ہے جو کہ 2018-19ءکے 5661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذریعے 5550 ارب آمدن متوقع ہے جس کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 12.6 فیصد ہو گا۔ وفاقی ریونیو کلیکشن میں سے 3255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو جائیں گے جو کہ موجودہ سال کے 2465 ارب روپے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20ءکیلئے نیٹ فیڈرل ریزورز کی مد میں 3462 ارب روپے کا تخمینہ ہے جو کہ جاری مالی سال کے 3070 ارب روپے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح وفاقی بجٹ خسارہ 3560 ارب روپے ہو گا۔ مالی سال 2019-20ءکیلئے صوبائی سرپلس کا تخمینہ 423 ارب روپے ہے، مالی سال 2019-20ءکیلئے مجموعی مالی خسارہ 3137 ارب یا جی ڈی پی کے 7.1 فیصد ہو گا جو کہ 2018-19ءکے مالی سال میں میں جی ڈی پی کے 7.2 فیصد پر تھا۔

جناب سپیکر! اب میں اپنی تقریر کا دوسرا حصہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو کہ ٹیکس تجاویز پر مشتمل ہے۔ اس سال پاکستان نے سابقہ حکومت کی جانب سے متعارف کی گئی ناقص ٹیکس پالیسیوں کے بدترین اثرات کا سامنا کیا۔ ان پالیسیوں کو پاکستانی عوام کی تائید حاصل نہ تھی، پچھلی حکومت نے اضافی ٹیکس ریلیف فراہم کیا جس سے ٹیکس بیس میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی۔ پچھلے پانچ سال کے دوران حکومت نے ٹیکس محصولات میں اضافے کیلئے صرف ٹیکس ریٹ میں اچانک تبدیلیوں کی اپروچ کا سہارا لیا اور زیادہ مستند، مساویانہ اور مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں ٹیکس بیس میں اضافے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے۔ نتیجتاً اس وقت 22 کروڑ آبادی میں صرف 19 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے۔

اس طرح یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ سیلز ٹیکس فائلرز کی تعداد صرف ایک لاکھ 41 ہزار ہے اور ان میں سے صرف 43 ہزار اپنے گوشواروں کیساتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس کی شرح 12 فیصد ہے جوناصرف خطے بلکہ دنیا میں کم ترین شرح میں سے ہے۔ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا 20فیصد ہو، اس تناظر میں موجودہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایک ایسا ایجنڈا ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے جو ناصرف میکرو اکنامک استحکام بلکہ آنے والی نسلوں کی خاطر قومی یکجہتی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہیں۔

جناب سپیکر! میں آغاز میں اس معزز ایوان کو مالی سال 2019-20ءکے مجوزہ ٹیکس اقدامات کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مختصر بریف کرنا چاہوں گا۔ یہ اقداما حکومت کے درمیانی مدت پالیسی فریم ورک کا حصہ ہیں۔ اس فریم ورک کی بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ درمیانی مدت کے دوران جمع ہونے والے محصولات اور حقیقی پوٹینشل میں فرق کو کم کیا جائے۔ مالی سال 2018-19ءمیں حکومت نے ٹیکس اخراجات کی حد 972.4 بلین روپے کی ٹیکس سہولیات کی۔ یہ اخراجات ان بے شمار ٹیکس چھوٹ اور رعائتوں کا نتیجہ ہیں جو معیشت کے مختلف شعبوں کو مہیا کی جا رہی ہیں۔ جہاں ان رعائتوں کے نتیجے میں ایک طرف تو ترغیب ملتی ہے تو دوسری طرف ان کے نتیجے میں تباہی بڑھ جاتی ہے اورٹیکس محصولات کا ایک بڑا حجم ضائع ہو جاتا ہے۔ ان ٹیکس چھوٹ اور رعائتوں میں کمی سے ناصرف محصولات میں اضافہ ہو گا بلکہ ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہو گا، ٹیکس کے خلاءکو کم کرنے کی کوششیں دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ پہلی کوشش چھوٹ اور رعائتوں میں مرحلہ وار کمی اور دوسری کوشش ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح اور مرحلہ وار مساویانہ بنانے اور خصوصی طریقہ کار پر نظرثانی کرنا ہے۔

ہماری توجہ موثر اور خوف سے پاک ٹیکس کمپلائنس کو یقینی بنانا ہے۔ ٹیکس گزار اور ٹیکس کولیکٹر کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ کاری کو متعارف کروایا جائے گا تاکہ دونوں کا براہ راست رابطہ کی جگہوں کو ورچوئل ذریعے اختیار کر کے کم سے کم کیا جائے، اس سے ٹیکس گزار اور ٹیکس کے محکمے کے مابین اعتماد کا فقدان کم ہو گا اور ٹیکس کمپلائنس کی لاگت بھی کم ہو گی، ٹیکس کے نظام میں جمود توڑنے کیلئے فرضی ٹیکسیشن کے بجائے حقیقی آمدن پر ٹیکسیشن اور غیر ضروری ودہولڈنگ ٹیکسز کے خاتمے کے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں۔ اس کا فطری نتیجہ کاروبار کرنے میں آسانی کے انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ بہتر ہونے کی صورت میں نکلے گا۔

آنے والے سالوں میں ٹیکس بیس میں اضافے کیلئے معیشت کو دستاویزی شکل دینا سب سے اہم ہو گا جس کیلئے حکومتی اداروں کے پاس موجودہ ڈیٹا اور جمع کروائے گئے گوشواروں کے موجود ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ حکومت نے ایسے ڈکلیئریشن آرڈیننس 2019ءکے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کا پیکیج متعارف کروا دیا ہے تاکہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے اور ٹیکس کمپلائنس کی حوصلہ افزائی اور اس سے معاشی بحالی و نمود کے مقاصد پورے ہوں۔

جناب سپیکر! اب میں اس ایوان کے سامنے ریلیف اور ٹیکس اقدامات پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس بجٹ میں پیش کئے گئے ہیں اور ان کا آغاز کسٹم ڈیوٹی سے کروں گا۔ ماضی میں ملکی ٹیکسوں سے ملنے والے کم ریونیو کی وجہ سے کسٹم ٹیرف کو امپورٹ سے ریونیو حاصل کرنے کیلئے بے دردی سے استعمال کیا گیا۔ فی الوقت پاکستان میں اوسطاً کسٹم ٹیرف اور امپورٹ کے مرحلے کے حوالے سے ریونیو بہت زیادہ ہے جبکہ امپورٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ امپورٹ شدہ خام مل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ملکی اور برآمدی دونوں صنعتوں کی مسابقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ حکومت کو یہ مکمل یقین ہے کہ ایکسپورٹس اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کیلئے کسٹم ٹیرف کی ریشنلائزیشن ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی خام مال کی ضمن میں اس بجٹ میں مستثنیٰ کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 20 ملین روپے ریونیو کا نقصان ہو گا لیکن صنعتی ترقی کے بدلے میں بہت زیادہ فوائد بھی متوقع ہیں۔ حکومت کسٹم ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ اہم ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ اس شعبے کو ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس اور آلات پر ڈیوٹی چھوٹ دے کر معاونت فراہم کی جائے۔ اس طرح لچکدار دھاگے اور غیر بنے کپڑے پر بھی ڈیوٹی کم کی جائے گی، ملک کے تعلیمی شعبے میں کاغذ کا استعمال انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی قیمت سے تعلیم کی مجموعی لاگت پر اثر پڑا ہے۔ کاغذ کی پیداوار کیلئے استعمال ہونے والے بنیادی خام مال جیسے برادہ اور کاغذ کے سکریپ کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے اور مختلف اقسام کے کاغذ پر ڈیوٹی 20 فیصد سے 16 فیصد کم کی جائے گی، اس سے ملک میں کاغذ اور کتابوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور پرنٹنگ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ہو گی، قرآن کی اشاعات کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے، غیر روائتی ایکسپورٹس میں اضافے کیلئے لکڑی کے فرنیچر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیاءپر ڈیوٹی کم کی جا سکتی ہے، مقامی جنگلات کوب چانے اور فرنیچر کے پیدا کنندگان کی حوصلہ افزائی کیلئے لکڑی پر ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے اور لکڑی کے مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

سٹیل کی پیٹیوں پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، گھریلو اشیاءکی صنعت، پرنٹنگ پلیٹ کی صنعت، سولر پینل کے اسمبلرز اور کیمیکل انڈسٹریز کے مداخل کی لاگت کو کم کرنے کیلئے ان کے مداخل جیسا کہ گھریلو اشیاءکے پارٹس، اجزائ، ایلومونیم کی پلیٹوں، دھاتی سطح والی اشیاءوغیرہ کی ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے تیل صاف کرنے والے ہائیڈرو کریکر پلانٹس کی تنصیب کیلئے استعمال ہونے والے پلانٹ اور مشینری پر ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کیلئے ریگولیٹری ڈیوٹی کے استعمال سے امپورٹس تو کم ہوئی لیکن ان میں کچھ اشیاءٹرانزٹ ٹریڈ میں چلی گئیں اور پھر انہیں واپس سمگل کیا گیا۔ تجویز ہے کہ ٹائر، وارنش اور خوراک کی صنعت میں خوراک کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی کے ڈھانچے کو منطقی بنایا جائے تاکہ ان اشیاءکو سمگلنگ میں منتقل ہونے سے بچایا جائے اور ضائع ہونے والے محصولات کو حاصل کیا جائے۔

رہن سہن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عام آدمی کا گزارا بہت مشکل ہو گیا، عام آدمی کیلئے دوائیوں کی قیمتوں میں کمی کی غرض سے دوائیوں کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی 19 بنیادی اشیاءکو 3فیصد ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز ہے۔ ایکسپورٹس کی حوصلہ افزائی کیلئے برآمدی سہولیات کی خودکار سکیموں کو سادہ اور آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی عمل دخل کم سے کم ہو اور تیز رفتار عمل شفاف طریقے سے انجام پائے۔ یہاں یہ تذکرہ کرنا انتہائی اہم ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران خام مال کی امپورٹ پر ایکسپورٹس کو سہولیات فراہم کرنے کی مختلف سکیموں کے تحت برآمد کنندگان کو ڈیوٹی کی مد میں 124 ارب روپے کی رعائتیں دی گئیں۔ ایکسپورٹرز کے وقت کی بچت کیلئے تجویز ہے کہ ان کی طرف سے فراہم کی جانے والی اشیاءاور پیداوار کی شرح کو حتمی تصدیق کی شرح کے ساتھ عارضی طور پر قبول کیا جائے اور ان کی امپورٹ آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے۔

میں دوبارہ عرض کروں گا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے اور بری شہرت کا باعث نیز اس سے معاشی نقصان ہوتا ہے۔ تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے ایک مکمل نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے۔ منی لانڈرنگ اور کرنسی کی سمگلنگ کے خلاف قانونی اقدامات کرنے کیلئے ایک نیا علیحدہ ڈائریکٹوریٹ آف کراس بارڈر کرنسی موومنٹ ٹائم کر کے ایف اے ٹی ایف کے منصوبہ عمل کو پورا کرنے کیلئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں سمگلنگ کیخلاف اقدام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں اس کی روک تھام کیلئے علیحدہ سے کولیکٹریٹس قائم کئے گئے ہیں۔ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے بعض سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں، اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے کہ امپورٹس کے مرحلے پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کئے جانے والے کسی بھی اضافے کا صارفین پر بوجھ پڑھتا ہے، اس لئے ہم نے امپورٹ مرحلے کے حوالے سے محصولات کے ضمن میں کم از کم اقدامات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح موجودہ شرح سے بالترتیب 2 فیصد سے 4 فیصد اور 16فیصد اور 20 فیصد کے ٹیرف سلیبز پر 7 فیصد اضافہ کیا جائے جو بنیادی طور پر لگژی آئٹمز سمیت فنشڈ گڈز پر مشتمل ہے۔ فی الوقت ایل این جی کو کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ دی جا رہی ہے چونکہ ایل این جی نے فرنس آئل کی جگہ لے لی ہے اور اس پر سات فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔ اس لئے ایل این جی کی امپورٹ پر پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

جناب سپیکر! حکومت نے غریب طبقے کی بڑی اکثریت کے فائدے کیلئے محصولات اکٹھا کرنے کی غرض سے جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد سے آگے بڑھانے کا آپشن اختیار نہیں کیا، ریلیف کے کچھ اقدامات اس طرح ہیں۔ اس وقت اینٹوں کے بھٹوں سے 17 فیصد کے ریٹ سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد سے کم کر کے صلاحیت اور جگہ کے حساب سے فکس کیا جائے، یہ دیہی علاقوں کی صنعت ہے،یہاں دستاویزی تقاضے پورا کرنا مشکل ہے اس لئے اس اقدام سے کم لاگت پر کمپلائنس کو یقینی بنایا جا سکے، کھانے اور دیگر اشیاءخورونوش کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاءجیسا کہ گوشت، سبزیاں اور آٹا وغیرہ کو دستاویزی شکل میں لانا مشکل ہے اور اس کاروبار کے لوگوں میں ٹیکس چوری کا رجحان بڑھتا ہے اس لئے ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے کم سے کم اخراجات کے ساتھ کمپلائنس کی حوصلہ افزائی کیلئے تجویز ہے کہ ریسٹورنٹس اور بیکری میں فراہم کی جانے والی چیزوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 7.5 فیصد تک لایا جائے جس میں سے ان پٹ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس وقت خشک دودھ کے مختلف اقسام کیلئے سیلز ٹیکس کے ریٹ یکساں نہیں ہیں، ایک جیسی مصنوعات پر ٹیکس کی مختلف شرح عائد ہے اس لئے اس فرق کو ختم کرنے کیلئے تجویز ہے کہ دودھ اور کریم، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر یکساں 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔ پی وی سی اور پی ایم سی کی افغانستان ایکسپورٹ پر پابندی کے خاتمے کیلئے تجویز ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زیرو ریٹ پر یہ اشیاءایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے، اس اقدام سے مختلف اشیاءکی ملک میں مقامی طور پر پیداوار کی حوصلہ افزائی کیساتھ ساتھ ایکسپورٹس میں بھی اضافہ ہو گا۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی(ایف ای ڈی)

جناب سپیکر! فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے مذکورہ اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ مختلف اشیاءپر ٹیکس کے ریٹس میں ہم آہنگی کیلئے چینی والی مشروبات کا استعمال کم کرنے کیلئے کولڈ ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 11.25 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل پر صرف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے۔ پروڈیوسرز کو ویلیو ایڈیشن پر ایک روپیہ فی کلوگرام کے حساب اور درآمد شدہ خوردنی آئل سیڈز کی ویلیو ایڈیشن پر 40 روپے فی کلوگرام کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ٹیکسز کی کولیکشن حقیقی پوٹینشل کے مقابلے میں انتہائی کم ہے لیکن اس امر کے باوجود کہ خوردنی تیل کی 27 فیصد پیداوار مقامی ہے، مقامی پیداوار پر صرف آدھا ارب ٹیکس وصول ہوا ہے جبکہ امپورٹس پر اس ٹیکس کی مقدار 42 ارب روپے ہے۔ تجویز ہے کہ خوردنی تیل، گھی، کوکنگ آئل پر ایف ای ڈی بڑھا کر 17فیصد کر دی جائے اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے بدلے میں ایک روپیہ فی کلوگرام کے ٹیکس کو ختم کر دیا جائے، ایسا گھی اور کوکنگ آئل جو ریٹیل پیکنگ میں کسی برانڈ کے نام سے فروخت ہوتا ہے، تجویز ہے کہ اس پر ریٹیل قیمت کے 17 فیصد کے برابر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے، یہ بھی تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس موڈ میں نارمل ایف ای ڈی قانون کو بحال کیا جائے جس کے تحت انڈسٹری حقیقی ویلیو ایڈیشن پر ایف ای ڈی ادا کرتی ہے، سیرپ اور سکواشز پر ایف ای ڈی کا اطلاق کیا جائے۔

سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ روپے فی کلو گرام کے حساب سے نافذ العمل ہے اور تجویز ہے کہ اسے بڑھا کر 2 روپے فی کلوگرام کر دی جائے۔ ایل این جی کی امپورٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 16.18 روپے فی 100 مکعب فٹ بڑھا کر مقامی گیس کے برابر 10 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز ہے۔

فنانس ضمنی دوسرے ترمیمی ایکٹ 2019ءکے ذریعے 1700 سی سی اور اس سے زائد انجن کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد کی شرح سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی متعارف کرائی گئی ہے اور اب تجویز ہے کہ اسے وسیع کیا جائے اور اس تناظر میں اب نئی سیلبز متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کے تحت 100 سے 1000 ہزار سی سی پر ڈھائی ہزار کی شرح سے، 1001 سی سی 2000 سی سی تک پانچ فیصد کی شرح سے اور 2001 سی سی اور اس سے زائد پر ساڑھے سات فیصد کے حساب سے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے۔

سیگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی متعین ریٹ سے لاگو ہوتی ہے اور اس شرح کو قیمتوں کے لحاظ سے ہر سال بڑھانا پڑتا ہے۔ ایف ای ڈی کو مندرجہ ذیل طریقے سے بڑھانے کی تجویز ہے۔ روائتی طور پر سگریٹس کو دو سلیبوں میں تقسیم کر کے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے لیکن 2017ءمیں ایک تیسری سلیب بھی متعارف کرائی گئی تاکہ کم قیمت والی غیر قانونی مارکیٹ کو راغب کیا جا سکے لیکن اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ بالائی سیلب پر 45 روپے فی ایک ہزار سٹکس سے بڑھا کر 5200 روپے فی ایک ہزار سٹکس تک ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ زیریں سیلب کیلئے موجود دو سیلبز کو ضم کر کے 1650 روپے فی 100 سٹکس کے لحاظ سے ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ تجویز ہے کہ 2018-19ءکے تخمینے 114 ارب روپے کے مقابلے میں 147 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے قوت برداشت، لچک وغیرہ کا پوری طرح خیال رکھا جائے گا۔

انکم ٹیکس

جناب سپیکر! ٹیکسز معاشی لین دین کے ڈاکیومنٹیشن کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اس بجٹ کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ معیشت کی ڈاکیومنٹیشن کو فروغ دیا جائے اور ان لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جائے جو اسے افورڈ کر سکتے ہیں بجائے اس کے ٹیکس ودہولڈنگ اور مفروضوں پر مبنی قوانین سے جمع کئے جائیں۔ جیسا کہ آپ اس فنانس بس میں تجویز کردہ متعدد ترامیم کی صورت میں دیکھیں گے کہ عائد ٹیکس سے بچنے کے نیم قانونی کلچر کو فروغ دینے کے بجائے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ وہ تمام لوگ جن پر قانونی طور پر آمدن کے گوشوارے جمع کروانا لازم ہے، وہ گوشوارے جمع کروائیں اور قانون کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن پر ٹیکس ادا کریں۔ یہ اس ملک کے ٹیکسیشن کے نظرئیے میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی ہے۔ ہمارا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ وہ تمام لوگ جن پر ٹیکسز لاگو ہوتے ہیں انہیں گوشوارے جمع کروانے چاہئیں اور واجب الادا ٹیکسز ادا کرنے چاہئیں، ان کیساتھ ساتھ ہم ٹیکس فائلرز پر بھی اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے، ہم آمدن کے گوشوارے جمع کروانے کیلئے غیر شخصی بنیادوں پر بہت سادہ اور خودکار طریقہ کار متعارف کروا رہے ہیں ، ان دو ضروری اقدامات سے ہمارے ٹیکس قانون میں بنیادی نقائص دور ہوں گے۔ بدترین پریشر کے باوجود کمپنیوں کیلئے کارپوریٹ ریٹ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا تاکہ کارپوٹائزیشن کو فروغ دیا جا سکے، اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر میں کاروبار چلانے والے بزنس مین کی آمدن پر عائد ٹیکس کے ریٹ کو غیر کارپوریٹ سیکٹر کے کاروبار چلانے والے افراد پر ٹیکس ریٹ سے کم ہو۔

ری فنڈ بانڈز کا اجراء

رکے ہوئے انکم ٹیکس ری فنڈ کے باعث کاروباری افراد کیلئے پیدا ہونے والے کیش کے مسائل کو دور کرنے کیلئے ایف بی آر ری فنڈ سیٹلمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے ٹیکس ری فنڈ بانڈز جاری کرنے کی تجویز ہے۔ ایف بی آر ری فنڈ سیٹلمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو نوٹ جاری کرے گی جس میں ری فنڈ کلیم جمع کروانے والے کی تفصیلات اور اسے واجب الادا ری فنڈ رقم کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ رواں مالیاتی سال کے دوران اس طرح کے ماڈل پر سیلز ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے عمل کیا جا رہا ہے، اس طریقے سے کاروباری برادری کے خدشات کو کامیابی سے دور کیا گیا ہے۔ سابقہ حکومت نے قانون میں ایک دفعہ متعارف کرائی ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد، جس نے مقررہ تاریخ تک ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروائے ہوں، اس کا نام ٹیکس گزاروں کی فعال فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا، اس طرح کوئی بھی شخص جس نے مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کروائے ہوں، نان فائلر ہی شمار ہو گا، اس پر زیادہ ٹیکس ریٹ لاگو ہوں گے، یہ ایک ناانصافی تھی اور اس فرد کے لئے بہت پریشانی کا باعث تھی کہ وہ گوشوارے جمع کروانے کے بعد بھی نان فائلر ہی شمار ہو۔ مقررہ تاریخ کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے اے ٹی ایل میں نام شامل نہ ہونے کی شرح کو ختم کیا جا رہا ہے۔

جائیداد کی خریداری پر پابندی کا خاتمہ

سابقہ حکومت نے یہ پابندی عائد کی تھی کہ کسی نان فائلر کے نام پر 50 لاکھ سے زائد کی جائیداد کو رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جائیداد کی خریداری پر اس پابندی کے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوئے اور اس کیساتھ ساتھ اسے عدالت میں قانونی طور پر چیلنج بھی کر دیا گیا ہے۔ اس لئے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد یہ پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔

نئے گریجوایٹس کو ملازمت فراہم کرنے والے افراد کیلئے ٹیکس کریڈٹ

حکومت کی اس پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ نئے گریجوایٹس کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں، ایسے گریجوایٹس کو ملازمت فراہم کرنے والے افراد کو ایک نیا ٹیکس کریڈٹ دینے کی تجویز ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق شدہ یونیورسٹیوں اور اداروں سے حال ہی میں گریجوایشن مکمل کرنے والے نوجوان کو ملازمت فراہم کرنے والے افراد کو ادا کردہ سالانہ تنخواہ کے حساب سے ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا۔ یہ ٹیکس ریبیٹ کاروباری اداروں کی طرف سے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کلیم شدہ اخراجات کے علاوہ ہیں۔ ایسے افراد جنہوں نے یکم جولائی 2017ءکے بعد گریجوایشن مکمل کی ہو گی انہیں ٹیکس ریبیٹ کے مقصد کیلئے نیا گریجوایٹ تصور کیا جائے گا۔

ریونیو کے اقدامات

فنانس ایکٹ 2018ءمیں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار دونوں افراد کیلئے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔ اس سے بیشتر قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد 4 لاکھ روپے تھی، فنانس ایکٹ 2018ءکے ذریعے اس کم سے کم حد کو تین گنا بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں محصولات کی مد میں 80 ارب روپے کا بڑا نقصان ہوا، عام طور پر قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد اس ملک کی فی کس آمدن کے تناسب سے ہوتی ہے اور اس طرح کے غیر معمولی اضافے کی مثال نہیں ملتی، اس لئے تجویز ہے کہ قابل ٹیکس آمدن کی حد پر نظرثانی کر کے اسے تنخواہ دار طبقے کیلئے 6 لاکھ روپے اور غیر تنخواہ دار طبقے کیلئے 4 لاکھ روپے کر دیا جائے۔ تجویز ہے کہ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کیلئے 11 قابل ٹیکس سلیبز 5 فیصد سے 35 فیصد تک کے پروگریسو ٹیکس ریٹس کیساتھ متعارف کروائی جائیں۔ 4 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے غیر تنخواہ دار افراد ?

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں