نان فائلر ہونا اب ناممکن ہو گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ اب پاکستان میں نان فائلر ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 6 لاکھ کی آمدن پر ٹیکس نہیں لگایا گیا، 6سے12 لاکھ روپے کمانے والوں پر ڈھائی فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 19لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں لیکن اب پاکستان میں نان فائلر ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی بجٹ 2019-20 قومی اسمبلیمیں 70کھرب 22 ارب روپے بجٹ پیش کردیا گیا ہے، بجٹ وزیرمملکت حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا، بجٹ میں قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے1800 ارب اورغیر ترقیاتی اخراجات6192 ارب رکھے گئے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے میں کہا کہ ملکی قرضے اورادائیگیاں31 ہزارارب ہوگئے تھے، زرمبادلہ ذخائر 18ارب سے گرتے 10فیصد رہ گئے۔

مالیاتی خسارہ 2200ارب تک پہنچ گیا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالرتک پہنچ گیا۔ تجارتی خسارے میں 4ارب ڈالر کی کمی لائے۔ برآمدات میں کوئی پچھلے پانچ سالوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ بجلی کا گردشی قرضہ 1200ارب تک پہنچ گیا تھا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں 1300ارب کا خسارہ تھا۔ روپے کی قدرمستحکم رکھنے کیلئے اربوں روپے جھونک دیے گئے۔ ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا، یوں 2017ء میں روپیہ گرنا شروع ہوا، اور ترقی کا زور ٹوٹ گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں برآمدات میں اضافہ ہوا،اور امپورٹ میں 4ارب ڈالر کمی آئی۔بیرون ملک سے آنیوالے پیسے میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔چین ،سعودی عرب اور یواے ای سے 9.2ارب ڈالر کی امداد ملی، چین سے 313 اشیاء پر ڈیوٹی تجارت ہوگی، میں دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔بجٹکی تیاری میں بیرونی خسارے میں کمی، امپورٹ میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔ ٹیکس ہدف کویقینی بنائیں گے، ایف بی آر کو5500 ارب کا ہدف دیا ہے۔بہت سے لوگ ٹیکس نہیں دیتے،لیکن اب نئے پاکستان میں ایسا نہیں ہوگا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں