بانی ایم کیوایم الطاف حسین کی لند ن میں گرفتاری کے بعد حالات تیزی سے بدلنا شروع، ایف آئی اے کی ٹیم پاکستان سے لندن روانہ

لندن(ویب ڈیسک) لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری کے حوالے سے ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہالطاف حسین پر پاکستان اور برطانیہ دونوں ممالک کے قوانین کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ایک ٹیم پاکستان سے برطانیہ روانہ ہوئی ہے، پاکستان اور برانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا حالیہ ایم او یو سائن ہونے کی وجہ سے الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے تاہم الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اس لیے اس حوالے سے مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں موجود ایک برطانوی لاء فرم کو الطاف حسین کے خلاف کیس لڑنے کے لیے چنا جا چکا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانوی پولیس الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی پوچھ کچھ کر سکتی ہے۔خیال رہے کہ آض صبح ایم کیو ایم کے بانی اور قائد کو لندن میں گرفتارکر لیا گیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا جس میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے 16اہلکاروں نے حصہ لیا تھا۔

ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016ء میں کی گئی نفرت انگیز تقریر پر عمل میں لائی گئی۔ لندن پولیس نے بھی الطاف حسین کی گرفتاری سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ جس میں کہا گیا کہ الطاف حسین کو نفرت انگیز تقریر اور پاکستان مخالف تقاریر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اردوپوائنٹ سے بات کرتے ہوئے برطانوی صحافیوں نے بتایا کہ قانونی ماہرین کے مطابق بای ایم کیو ایم کو ضمانت ملنا نہایت مشکل ہے کیونکہ اتنے بڑے کیس میں برطانیہ میں عام طور پر ضمانت نہیں دی جاتی البتہ اگر انہیں ضمانت دی بھی گئی تو صرف دو ہفتے کی ضمانت دی جاسکتی ہے جس دوران انہیں نگرانی میں ہی رکھا جائے گا۔

صحافیوں نے اردوپوائنٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ذرائع کے مطابق الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے پاس برطانیہ میں 100سے150گھر ہیں اور اب انتظامیہ نے الطاف حسین سے یہ بھی پوچھا ہے کہ جب وہ گھر خریدے گئے تھے تو پیسے کیسے اور کہاں سے آئے تھے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں