روس کا نظر بند صحافی کو رہا کرنے کا فیصلہ

روسی پولیس کے مطابق گھر میں نظر بند تحقیقاتی صحافت سے وابستہ شخص کے خلاف الزامات واپس لے کر انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

 آزاد میڈیا ادارے میدوزا سے وابستہ 36 سالہ رپورٹر ایوان گولنوف کو گذشتہ ہفتے ان کے تحقیقاتی کام پر سزا دینے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر عوامی احتجاج کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ غیر معمولی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

وزیر داخلہ ولادی میر کولوکلتسیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’آج انہیں نظر بندی سے رہا کردیا جائے گا اور ان سے الزامات واپس لے لیے جائیں گے‘۔

روسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ صدر ولادی میر پیوٹن سے ماسکو پولیس کے سربراہ اور منشیات کی روک تھام کے انچارچ سینئر عہدیدار کو برطرف کرنے کی اجازت لیں گے۔

مذکورہ اعلان کے بعد صحافیوں اور سماجی رضاکاروں نے مسرت کا اظہار کیا جو ماسکو میں کافی دنوں تک چھوٹے پیمانے پر مظاہرے کرنے کے بعد بڑی احتجاجی ریلی کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

میدوزا کے ایڈیٹر ان چیف نے اس حوالے سے کہا کہ ’یہ جیت ہے، مں رو رہا ہوں‘ جبکہ روسی اپوزیشن لیڈر ایلکسی نیولنی نے اسے ’سادہ یکجہتی کی متاثر کن اور حوصلہ افزا مثال‘ قرار دیا۔

خیال رہے کہ ایوان گولنوف کو ’بھاری مقدار‘ میں منشیات کی ڈیل کرنے کی کوشش کے الزام پر گرفتار کر کے نظر بند کردیا گیا تھا اور اگر ان پر یہ جرم ثابت ہوجاتا تو انہیں 20 سال سے زائد عرصہ جیل میں قید کردیا جاتا۔

مذکورہ صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں دورانِ قید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے وکلا کا اصرار تھا کہ انہیں دھوکے سے منشیات میں ملوث کیا گیا۔

بعدازاں روسی پولیس نے اس بات کا اعتراف کرلیا تھا کہ ان ویب سائٹ پر موجود منشیات کی تصویر ایوان گولنوف کے فلیٹ سے نہیں بلکہ کسی جائے واردات سے ملی تھی۔

روسی وزیر داخلہ کے مطابق ایوان گولنوف کو حراست میں لیے جانے والے افسر کو معطل کردیا گیا ہے اور اس کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسی بھی شہری کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے برعکس اس کے حقوق کا ہمیشہ تحفظ ہونا چاہیے‘۔

مذکورہ معاملے پر روس میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جس میں ناقدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نالائقی اور بدعنوانی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایوان گولنوف کی گرفتاری کے بعد سیکڑوں افراد ماسکو پولیس کے ہیڈ کوارٹر اور عدالت کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔

احتجاجی مظاہرین نے صحافی کی رہائی کے لیے ماسکو میں احتجاجی مارچ کرنے کی کال دی تھی جس کے فیس بک پر دیے گئے دعوت نامے میں 24 ہزار افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

صحافیوں کے لیے کام کرنے والی عالمی تنطیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اسے ’روسی سول سوسائٹی کی تاریخی تحریک قرار دیا‘، اور ٹوئٹ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’جنہوں نے انہیں پھنسانے کی کوشش کی اب ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے‘۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں