اپوزیشن جماعتوں نے کیا حکومتی بجٹ نا منظور، جانیے اصل وجہ

اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ کوآئی ایم ایف کا تیارکردہ اورعوام دشمن قراردے کر مسترد کر دیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ نالائق اور جھوٹی حکومت کا بجٹ عوام کی مزیدچیخیں نکالے گا،اس سے صرف علیمہ باجی، جہانگیر ترین اور فیصل واوڈا کو فائدہ ہو گا، عمران خان ملک میں افراتفری چاہتے ہیں تاکہ کوئی سوال نہ کرے، جب سے ووٹ چور حکومت آئی، روٹی، روزگار، ترقی اور جیبوں پہ ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔

سینیٹرآصف کرمانی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت جب سے آئی، روز بجٹ پیش کررہی ہے ۔فراڈ حکومت فراڈ کررہی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت نے بیرونی ڈکٹیشن لی ،بجٹ سے مہنگائی، افراط زر اور بیروزگاری کا طوفان آئے گا، حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کاوعدہ کیاتھامگر ان ٹیکسوں کے بعد یہ وعدہ پورا کرنا ناممکن ہو گیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ اگرماضی کی حکومتوں نے قرضے لے کر غلط کیاتو موجودہ حکومت نے دوگنا زیادہ قرض لے کر کونسا اچھا کیا؟ یہ ملکی تاریخ کاسب سے زیادہ خسارے والا بجٹ ہے جوآئی ایم ایف کی ٹیم نے بنایا۔ 700ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں سے مہنگائی ہوگی اور عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا۔

دریں اثنا عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیارولی خان نے کہا حکومت سے ایسے ہی بجٹ کی توقع تھی،مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے کہایہ عوامی بجٹ نہیں،ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ ناکافی ہے۔ اے این پی کے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا حکومتی اقدامات سے ٹیکس دہندگان پربوجھ بڑھے گا اور ٹیکس نیٹ کمزور ہو گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں