چینی کمپنی ریت کے بہانے پاکستان سے سونا نکالتی پکڑی گئی؟ معاملہ عدالت پہنچ گیا

لاہور (ویب ڈیسک))چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم خان نے ریت کی آڑ میں سونا نکالنے کے چینی کمپنی کے اقدام کے خلاف عبوری حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے کمپنی کی مشینری کی منتقلی پر بھی 17 جون تک پابندی عائد کردی ہے۔

عدالت نے سیکرٹری معدنیات سے ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور استفسار کیا ہے کہ بتایا جائے کہ سائٹ پر موجود مشینری جانچ کے لئے کمیٹی کو درکار ہے یا نہیں، عدالت نے مزید حکم دیاہے کہ ریت کے تجزئیے کے لئے بنائی کمیٹی کی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے، عدالت کو سرکاری وکیل کی طرف سے بتایا گیا کہ سیکرٹری معدنیات نے ریت کے تجزئیے کے لئے ماہرین کی پانچ رکنی کمیٹی بنادی ہے،کمیٹی ریت میں سونے اور معدنیات کی موجودگی کا تجزیہ کرے گی، عدالت عالیہ میں نجی اراضی کے مالکان عثمان وغیرہ نے درخواستیں دائر کررکھی ہیں جن میں کہا گیاہے کہ چینی کمپنی کو سی پیک کے تحت بننے والی موٹر وے برہان تا حویلیاں کی تعمیر کے لئے ریت نکالنے کا ٹھیکہ دیا گیا، چینی کمپنی کو محکمہ معدنیات پنجاب کی جانب سے اٹک خورد کے مقام پر دریائے سندھ سے ریت نکالنے کا ٹھیکہ سونے کی چڑیا ثابت ہوا، 2017ءمیں سونے اور قیمتی معدنیات سے مالامال دریائے سندھ کا ایک حصہ چینی کمپنی کو صرف 10کروڑ 20 لاکھ روپے میں دو سال کے لئے لیز پر دے دیاگیا۔

محکمہ معدنیات پنجاب نے اربوں ڈالرز کے قرضوں میں پھنسے وطن عزیز کو کنگال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، چینی کمپنی دریائے سندھ سے ریت کی بجائے مبینہ طور پر 11ماہ میں دو شفٹوں میں روزانہ 5کلو سونا نکال کر لے جاتی رہی، 11ماہ کے دوران تقریبا 20 ارب روپے سے زائد مالیت کا 82 من سے زائد سونا چینی کمپنی نکال کر لے گئی۔محکمہ معدنیات نے درخواست گزار وں کی 800 کنال اراضی بھی چینی کمپنی کو دے دی، چینی کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی پیک کے تحت برہان تا حویلیاں موٹر وے سیکشن کی تعمیر کے لئے درکار ریت حاصلِ کرنے کے لئے زمین لیز پرلی، اٹک خورد سے دریائے سندھ سے ریت نکالنے کے لئے 3500 ایکڑ اراضی لیز پر لی گئی، محکمہ معدنیات نے ریت میں شامل معدنیات نکالنے کی اجازت بھی دی، لوکل کمیشن کی رپورٹ بھی کمپنی کے موقف کو سپورٹ کرتی ہے، دریا میں سیلاب آنے سے قبل قیمتی مشینری ہٹانے کی اجازت دی جائے، 4 دسمبر 2018 کو منسوخ کیا گیا کمپنی کا لائسنس بحال کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔فاضل جج نے مذکورہ احکامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 17جون پر ملتوی کردی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں