67ارب روپوں کی مبینہ خردبرد۔حُکومت نے مریم نواز کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا

لاہور( اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے 10سالہ دور اقتدار میں لئے گئے 24 ہزار ارب روپے کے قرضوں میں سی3سے 4 ہزار ارب کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، کرپشن اور قرضوں کے حساب کتاب کیلئے حکومت نے ڈپٹی چیئر مین نیب حسین اصغر کی سربراہی میں ٹیم چھان بین کرے گی،مریم نواز نے وزیراعظم یوتھ سکیم کی67 ارب روپے خرچ کیے ہیں ان کا بھی آڈٹ ہو گا،قومی خزانہ لوٹنے والوں کو عبرت ناک سزا دیں گے تاکہ آئندہ کوئی کرپشن کا سوچ بھی نہ سکے،پاکستان کی تاریخ میں پہلا فلاحی بجٹ پیش کیا گیا،بجٹ کو 29جون تک منظور کرا لیں گے ‘50لاکھ گھروں کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے آئندہ سال 50لاکھ خاندانوں کو گھروں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ۔

ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین سیکرٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات صمصام بخاری ‘ پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز احمد چوہدری سمیت دیگر بھی موجود تھے۔نعیم الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت نے حالیہ بجٹ میں احساس پروگرام کے ذریعے 10سے زائد سکیموں کیلئے 152ارب روپے وفاق کی سطح پر مختص کئے ہیں، غریب طبقہ اپنا معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے سکیموں سے فائدہ اٹھائیں، غریب طبقہ کیلئے مویشیوں کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے غربت کے خاتمے کیلئے انقلابی پروگرام ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں،مدینہ کی ریاست کے قیام کا نظریہ وزیر اعظم کا خواب ہے ‘ قومی زندگی کے ہر شعبے میں انصاف کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت قومی اداروں کا دیوالیہ نکل گیا، اس سال میں 4000 ارب روپے کی کولیکشن ہوئی ‘حالیہ بجٹ میں کچھ ٹیکس لگائے ہیں جس سے ریکوری میں اضافہ ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کفایت شعاری کو اپنا شعار بناتے ہوئے اپنے اخراجات میں واضع کمی لائی ہے، وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات52کروڑ سے کم کر کے 35کروڑ تک لے آئے ہیں ، بنی گالہ کی سڑک اور بنی گالہ میں ہونے والے تمام سیاسی پروگراموں کے تمام اخراجات پارٹی خود برداشت کرتی ہے‘ موجودہ بجٹ میں کابینہ کی تنخواہ میں 10فیصد کمی بھی کفایت شعاری کی مثال ہے ، وزیر اعظم جب امریکہ جائیں گے تو کفایت شعاری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وہاں کے سفیر کے گھر میں قیام کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے کہا کہ ججوں کی کمی ہے،کمی پوری کر دی جائے تو ہر سال 500سے 600ارب روپے حکومی خزانے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کیلئے بے شمار سہولیات لا رہے ہیں شعبہ ترقی کرے گا تو عوام خوشحال ہوں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مینگل گروپ کے 6مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں ‘ لاپتہ افراد پر کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ‘ بات چیت ہو رہی ہے وہ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے ‘ ترقیاتی سکیموں کے مینگل گروپ کے 4حلقوں کیلئے 60کروڑ کے فنڈز دیئے گئے ہیں تاکہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بہتری آ سکے ۔
آئندہ سال بھی ترقیاتی فنڈز فراہم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ان پانچ سالوں میں 47 لاکھ لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے 750لاکھ روپے تک علاج کروا سکیں گے،اپنی جیب سے بنی گالا میں سڑک بنائی اور تحریک انصاف کی ہونے والی میٹنگ کا خرچہ خود اٹھاتے ہیں،ملک ریاض کے ملنے والی رقم عوام پر خرچ کریں گے۔نعیم الحق نے مزید کہا کہ روسی صدر کے ساتھ اقتصادی تعاون شروع کر رہے ہیں،وزیراعظم دو گھنٹے تک رشین صدر کے ساتھ بیٹھے رہے،قطر کے سربراہ اگلے ہفتے پاکستان آ رہے ہیں جو 20 ارب ڈا لرکی انوسٹمنٹ لیکر آ رہے ہیں،اللہ کے فضل سے پاکستان صحیح راستے پر چل پڑا ہے اگلے چند مہینوں میں ملک اپنی ترقی کی راہ پر آ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا سربراہ اس لیے بنایا کہ قانون سازی میں مدد رہے،بجٹ 29 جون تک پاس ہو جائے گا قومی اسمبلی کو چلنے دیں،اگر قومی اسمبلی کو نہیں چلنے دیا گیا تو پھر اپوزیشن ملک کی اور جمہوریت کی دشمن ہو گی،قانون کے دائرے میںرہ کے احتجاج کریں تو کوئی اعتراض نہیں،ایمنسٹی سکیم پر وزیراعظم 2 دفعہ تقریر کر چکے ہیں کہ اپنے تمام اثاثے ڈیکلیر کر کے قومی خدمت کرنی چاہیے،اعجاز چوہدری صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ تحریک انصاف پنجاب کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں ان کی ٹیم بھی جلد وزیراعظم اعلان کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں، پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں بڑے اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں