جو کام امریکا نہ کر سکا وہ عمران خان نے کر دکھایا، سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کا وزیراعظم پاکستان کے نام شکریہ کا خصوصی پیغام

لاہور (ویب ڈیسک) جو کام امریکا نہ کر سکا وہ عمران خان نے کر دکھایا، سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کا وزیراعظم پاکستان کے نام شکریہ کا خصوصی پیغام، افغانستان میں قیام امن کے لیے لاہور پراسس کانفرنس کا انعقاد، افغان امن عمل کیلئے تمام افغان دھڑوں کو اکٹھا کرنے پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ کا پیغام جاری کیا گیا ہے۔ افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے افغانستان میں قیام عمل کیلئے تمام افغان دھڑوں کو میز پر ایک ساتھ بٹھا دینے پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور خصوصی شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

افغانستان کے سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار نے امید ظاہر کی ہے کہ اس تازہ ترین پیش رفت کے نتیجے میں افغانستان میں جلد امن کا قیام ممکن ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے لاہور پراسس کے نام سے پہلی کانفرنس آج بھوربن مری میں منعقد ہورہی ہے۔ ہفتے کے روز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کررہاہے پرامن اور خوشحال افغانستان خطے کے مفاد میں ہے افغان بحران کی وجہ سے پاکستان زیادہ متاثر ہوا پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی کفالت اور دیکھ بھال کررہاہے۔ شاہ محمو قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں الزام تراشی کسی کے مفاد میں نہیں ہے دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کو دشمنوں نے نقصان پہنچایا ہے.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک، افغان تعلقات پر کسی کو عدم اعتماد پیدا کرنے، پروپیگنڈہ یا منفی تاثر پیدا نہیں کرنے دیں گے ایک دوسرے کے مابین عدم اعتماد کی فضاءکسی کے مفاد میں نہیں ہے پائیدار امن کیلئے پاک، افغان مقاصد مشترک ہیںیہ خوش آئند ہے کہ سب نے فوجی نہیں سیاسی حل کی ضرورت کو سمجھا ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی تمام لیڈرشپ کے شکرگزار ہیں،ایک مشترکہ مستقبل کے لیے یہاں جمع ہیں،پاکستان اور افغانستان نے ایک بڑی قیمت ادا کی ہے.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے اس وقت کئی پراسس ایک وقت میں جاری ہیں،دوحہ پراسس، ماسکو پراسس، جرمنی، چین کے زیراہتمام بھی بات چیت جاری ہے. شاہ محمودقریشی نے کہا انہیں بشکیک میں بتایا گیا کہ چین، روس، ایران، افغانستان سمیت ایک بڑی کانفرنس جلد ماسکو میں ہوگی یہ کانفرنس ایک دوسرے سے سیکھنے اور الزام تراشی سے بچنے کے لیے ہے.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان امن واستحکام کے دوراہے پر کھڑا ہے پاکستان پرامن افغانستان کی حمایت کرتاہے اور اس کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہاہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گا. قبل ازیں لاہور مرکز برائے امن و تحقیق کے سربراہ، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں جنگ و جدل ختم کر کے امن کو موقع دینا ہو گا.
افغان امن کانفرنس کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہا کہ افغان سر زمین پر تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کو مذاکرات کے لیے آگے بڑھنا ہو گا. انہوں نے مزید کہا کہ پر±امن اور خوش حال خطے کے لیے افغان امن ناگزیر ہے، علاقائی خصوصاً پاکستان کا امن و استحکام، براہ راست افغان امن سے جڑا ہوا ہے. شمشاد احمد خان نے یہ بھی کہا کہ پرامن، متحد، مستحکم، خوشحال ترقی کرتا افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان، پاکستان کے لیے وسطِ ایشیاءکا دروازہ بھی ہے.

ایک غیر سرکاری تنظیم لاہور سنٹر فار پیس اینڈ ریسرچ (ایل سی پی آر)کی طرف سے منعقدہ کانفرنس میں افغانستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہیں‘لاہورپراسس نامی اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس میں افغانستان کی 18 سیاسی جماعتوں اور جتھوں( گروپس) کے45 مندوبین شرکت کررہے ہیں. سابق افغان وزیراعظم و حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یاراورسیکرٹری جنرل جماعت اسلامی افغانستان و سابق گورنر استاد عطا محمد نور بھی کانفرنس میں شریک ہیں‘حزب وحدت مردم افغانستان کے استاد محمد محقق ،سابق وزیر دفاع وحید اللہ سبوران، سابق گورنر حاجی عزیز الدین،افغان امن جرگہ کے سربراہ محمد کریم خلیلی اورقومی اسلامی فرنٹ کے سربراہ پیر سید حامد گیلانی بھی مری بھوربن پہنچ چکے ہیں.

استاد عطاءنور سمیت دیگر اہم شخصیات پہنچ چکی ہیں افغان امن جرگہ کے سربراہ کریم خلیلی اور ازبک رہنما رشید دوستم بھی کانفرنس میں مدعو کیے جانے والوں میں شامل ہیں افغانستان کے متعدد سینیٹرز اور ارکان اسمبلی بھی کانفرنس میں شریک ہیں. گزشتہ روز جاری کیے گئے تنظیم کے اعلامیے کے مطابق ”لاہور پراسس“ سے عوامی رابطوں اور مستقبل کے لیے تجاویز کا تبادلہ موقع ملے گا۔اس اہم کانفرنس میں افغان سیکورٹی کے مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لیا جائے گا.

غیر سرکاری تنظیم کا کہناہے کہ’ ’لاہورپراسس “سے مستقبل کی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی کانفرنس تجارت،روابط، صحت اور دیگر شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گی‘اس حوالے سے مزید کہا گیاکہ امن کانفرنس میں افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے حوالے سے بھی بات ہوگی. غیر سرکاری تنظیم کے اعلامیے میں کہا گیاہے کہ ”لاہور پراسس‘ ‘میں مستقبل میں طالبان کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ افغان صدر کے دورہ پاکستان سے قبل ہورہی ہے.

غیر سرکاری تنظیم کی درخواست پر صدر پاکستان عارف علوی افغان امن کانفرنس کے شرکاءکے اعزاز میں عشائیہ دیں گے،اورافغان امن کانفرنس کے شرکاءوزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے‘ اس اہم ترین کانفرنس میں بڑی تعداد میں سابق سفراء، محققین اور تھنک ٹینکس بھی شریک ہیں.

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں