حکومت کی اہم ترین اتحادی جماعت نے اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بی ا ین پی نے حکومت کے لیے ایک اور مشکل کھڑی کر دی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پی این پی مینگل نے اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پارٹی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس بھی آج شام کو طلب کر لیا ہے جس میں ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔

مشاورتی اجلاس میں پارلیمنٹیرینز اعر دیگر پارٹی رہنما شریک ہوں گے۔حکومت سے مذاکرات میں پیش رفت اور اے پی سی سے متعلق لائحہ عمل بھی بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ اپنے پہلے بجٹ کی منظوری کے لیے بلوچستان کی سیاسی جماعت کی حمایت کلیدی کردار ادا کرے گی اور اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی بی این پی ایم کے ناراض رہنما=ں کو منانے کے لیے کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔

بی این پی مینگل پارٹی حکومتی بینچ کا حصہ ہے لیکن انہیں حکومت کی متعدد پالیسیوں پر تحفظات ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی وزیر دفاع پرویز خٹک کررہے ہیں اور کمیٹی بی این پی مینگل کے چیف سردار اختر مینگلسے ایک ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ بی این پی مینگل پارٹی کی جانب سے 6 نکات پیش کیے گئے تھے جن میں لا پتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے 6 فیصد کوٹے پر عملدرآمد، افغان مہاجرین کی واپسی اور صوبے میں پانی کے مسائل کو دور کرنے کے لیے ڈیمز کی تعمیرات شامل ہیں۔

جب کہ دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپوزیشن کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے سامنے کچھ نکات رکھے ہیں جو دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے بھی رکھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ملاقات میں بہت سیر حاصل بحث ہوئی تاہم جب تک جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہوں گے تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے چند دن بعد دوبارہ ملاقات ہوسکتی ہے۔ ہمارے مطالبات ڈھکے چھپے نہیں ہیں جو مجموعی طور بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے ہیں۔انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نے 6 نکات حکومت کے سامنے رکھے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں حکومتی وفد سے ملاقات میں حکومتی وفد کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں اپنا موقف بیان کیا اور اپوزیشن سے ملاقات میں بھی وہی رویہ اختیار کیا

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں