اختر مینگل کی اے پی سی میں شرکت سے معذرت

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی میزبانی میں اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کو ایک پلیٹ فارم سے شروع کرنے کے مقصد پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اے پی سی آج منعقد ہورہی ہے جس میں بلوچستان کی بڑی سیاسی جماعت بی این پی (مینگل) کی شرکت مشکوک تھی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اخترمینگل نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو مراسلے کے ذریعے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

اختر مینگل نے مراسلے میں کہا کہ اے پی سی میں ہماری سفارشات کا جائزہ لیا جائے، جبکہ مطالبہ کیا کہ اپوزیشن ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔

بعدازاں اختر مینگل کی قیادت میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ 17 جنوری کو حکومت کی اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی عدم توجہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم جن نکات پر راضی ہوئے تھے حکومت کی جانب سے ان پر سنجیدگی نہیں دکھائی جارہی، جس کی وجہ سے ہم اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکتے ہیں‘۔

بعدازاں اپوزیشن جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مرکزی قیادت نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے بی این پی کو ہم خیال بنانے کے لیے رابطے شروع کردیے تھے اور ایک وفد نے بی این پی کے سربراہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

پی پی پی کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ نئیربخاری، فرحت اللہ بابر، راجا پرویز اشرف اور سید خورشید احمد شاہ پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بی این پی مینگل سے مذاکرات انتہائی سازگار رہی۔

 

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں