1992 ء ورلڈ کپ سے موازنہ ، آئی سی سی بھی پیچھے نہ رہا , پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے دوران دلچسپ موازنہ پیش کردیا

برمنگھم (ویب ڈیسک) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھی سوشل میڈیا کے رنگ میں رنگ گئی،شائقین پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال کا موازنہ 1992 ءکے ورلڈ کپ سے کرنے لگے تو آئی سی سی بھی پیچھے نہ رہا اورمیچ کے دوران سکرین پر موازنہ پیش کردیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی کا چیلنج درپیش، شائقین نے موجودہ صورتحال کو1992 ءسے جوڑ کرامیدیں باندھ لیں۔

شائقین سوشل میڈیا پرپاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال اور1992ءورلڈکپ کا موازنہ پیش کرنے لگے۔ پاکستانی شائقین کا دیوانہ پن دیکھ کر انٹرنیشنل کونسل بھی پیچھے نہ رہی۔ پاکستان نیوزی لینڈ میچ کے دوران ٹی وی کی سکرین پرآئی سی سی بھی ایسے ہی موازنے پیش کرتا رہا۔ پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے اپنے بقیہ تمام میچ جیتنا ضروری ہیں۔
یاد رہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست کر سیمی فائنل کی راہ میں حائل ایک اور رکاوٹ عبور کرلی۔

ایونٹ کے اہم میچ میں گرین شرٹس نے ناقابل شکست بلیک کیپس کی جیت کے سلسلے کو بریک لگا کر فائنل فور کی جانب ایک اور قدم بڑھادیا، نیوزی لینڈ کے 238 رنز کے جواب میں بابر اعظم اور حارث سہیل نے 126 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم کرکے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری سکور کی اور ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا جب کہ حارث سہیل نے بابر اعظم کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 68 رنز کی بہترین اننگز کھیلی۔

ہدف کے تعاقب میں فخر زمان اور امام الحق پر مشتمل گرین شرٹس نے اننگز کا آغاز کیا تو تیسرے ہی اوور میں 19 رنز پر فخرزمان کیچ آﺅٹ ہوگئے، انہوں نے 2 چوکوں کی مدد سے 9 رنز بنائے جبکہ 44 کے مجموعے پر امام الحق بھی چلتے بنے، وہ 19 رنز بنا سکے۔ابتدائی نقصان کے بعد تجربہ کار حفیظ اور بابر اعظم نے 66 رنز کی پاٹنرشپ قائم کرکے مجموعے کو 110 تک پہنچایا، اس دوران بابر اعظم نے کیریئر کے 3 ہزار رنز مکمل کیے۔

محمد حفیظ 32 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔چوتھی وکٹ پر بابر اعظم اور حارث سہیل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 126 رنز کی شراکت داری قائم کرکے ٹیم کو جیت کے قریب پہنچایا جب کہ کپتان سرفراز احمد نے آخری اوور میں وننگ شارٹ کھیل کر ٹیم کی نہیہ کو پار لگایا۔ بابر اعظم نے 127 گیندوں پر 101 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، ایونٹ میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی یہ پہلی سنچری تھی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے بولٹ، فرگوسن اور کین ولیمسن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔اس سے قبل نیوزی لینڈ نے پاکستان کےخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اننگز کا آغاز مارٹن گپٹل اور کولن منرو نے کیا تاہم 5 کے مجموعی سکور پر محمد عامر نے مارٹن گپٹل کو بولڈ کردیا جب کہ کچھ ہی دیر بعد شاہین آفریدی نے دوسرے اوپنر کولن منرو کو پویلین کی راہ دکھائی۔
شاہین آفریدی نے زبردست بولنگ کا مظاہرہ کیا اورچوتھے نمبر پر آنےوالے راس ٹیلر کو بھی صرف 3 رنز پر آﺅٹ کردیا، شاہین کی گیند پر سرفراز نے راس ٹیلر کا زبردست کیچ لیا جب کہ کچھ ہی دیر بعد شاہین آفریدی نے ٹام لیتھم کی وکٹ بھی حاصل کرلی۔نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے پاکستانی بولرز کےخلاف مزاحمت کی کوشش کی اور 41 رنز بنائے تاہم وہ شاداب خان کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آﺅٹ ہوگئے۔

بعد ازاں جیمز نیشم اور کولن گرینڈ ہوم نے ذمہ دارنہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا جس کے سبب نیوزی لینڈ کی ٹیم 200 سے زائد اسکور کرنے میں کامیاب رہی۔دونوں نے نہ صرف اپنی نصف سنچریاں سکور کیں بلکہ جیمز نیشان نے کیریئر کی بہترین اننگز بھی کھیلی، وہ 97 رن پر ناٹ آﺅٹ رہے۔ گرینڈ ہوم 64 رنز کی اننگز کھیل کر رن آﺅٹ ہوئے۔ قومی ٹیم کی جانب سے شاہین آفریدی نے 3 جب کہ محمد عامر اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں