آزاد کشمیر: دھماکا خیز مواد پھٹنے سے پاک فوج کے 5 جوان شہید، ایک زخمی ہو گیا

آزاد جموں و کشمیر کے چمب سیکٹر میں بھارت نے دھماکہ کردیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا ہے ۔۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق برنالہ سیکٹر میں ہونے والے دھماکے کی نوعیت کا اندازہ تاحال نہیں لگایا جاسکا ہے۔

پاک فوج کے میڈیا ونگ کا کہنا تھا کہ ‘دھماکا بھارت کے تعاون سے ہونے والی دہشت گردی کا ثبوت ہے جو جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے’۔واقعے میں شہید ہونے والے جوانوں میں 44 سالہ صوبیدار محمد صادق، 26 سالہ سپاہی محمد طیب، 36 سالہ نائیک شیر زمان، 20 سالہ سپاہی زوہیب اور 22 سالہ سپاہی غلام قاسم شامل تھے۔

واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

پاک-بھارت کشیدگی
یاد رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور بھارت کی جانب سے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

26 فروری کو بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ کو تباہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بناتے ہوئے اور بروقت ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔

27 فروری کو پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔

پاک فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا، جس میں سے ایک کا ملبہ آزاد کشمیر جبکہ دوسرے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا تھا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر کو بھی گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں یکم مارچ کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو سخت سیکیورٹی میں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں