ضمانت پر رہا ہونے والی مریم نواز کومزید 3سال کے لیے جیل

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی اجازت لیے بغیر اس کی ویڈیو بنانا پر 3سال قید سزا ہو سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ سائبر قوانین کے تحت ویڈیو میں ملوث ہر شخص پر کیس چل سکتا ہے اور انہیں سزا مل سکتی ہے۔ انور منصور خان نے بتایا ہے کہ ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں لیکن وکیل کیا جا سکتا ہے اور یہ کیس خود بخود ٹرائل پر چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو کو عدالت میں ثابت کرنے کے لیے ویڈیو بنانے والے کا عدالت مین پیش ہونا ضروری ہے اور اصل کیمرہ اور کیمرے کا سٹینڈ بھی ثبوت کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے، جس نے ویڈیو بنائی اور کسی کو بھیجی اسے بھی سامنے آنا پڑے گا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے مزید کہا ہے کہ ویڈیو جس کے سامنے بنی ہو اس کا بھی سامنے آنا ضروری ہے، جب ویڈیو ایڈٹ ہوتی ہے تو اس میں ڈیجیٹل امرنٹس موجود ہوتے ہیں اور بغیر اجازت کسی کی ویڈیو بنانا جرم ہے اور یہ جرم کرنے والے کو 3سال قید اور 10لاکھ جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

انور منصور خان نے کہا کہ ویڈیو سامنے لے کر آنے والا بھی اس جرم میں شریک ہوتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو کو ادارے کے خلاف سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ اد رہے کہ ہفتے کے روز پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے لے آئیں، احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو نوازشریف کے چاہنے والے ن لیگی نے بنائی،ویڈیو میں جج صاحب تسلیم کررہے ہیں کہ میں بہت پریشان ہوں، میں نے ظلم کیا، میرا ضمیرمجھے جھنجھوڑ رہا ہے،جج صاحب نے ناصر بٹ کو خود گھر بلا کر ثبوت پیش کیے کہ نوازشریف بے قصور ہے۔

جج ارشد ملک اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ ان کی ساکھ اور ادارے کی حرمت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اعلی عدلیہ سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا کہا ہے اور انہوں نے حکومتی عہدیداروں کو اس معاملے سے دور رہنے کا بھی کہا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں