احمد ندیم قاسمی کو دینا سے رخصت ہوئے 13 برس بیت گئے لیکن مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا، میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا۔ ممتاز شاعر، سینکڑوں نظموں، غزلوں، نثروں، افسانوں کے خالق احمد ندیم قاسمی کی تیرہویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
ممتاز شاعر احمد ندیم قاسمی بیس نومبر انیس سو سولہ کو صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسے میں اور پھر اعلیٰ تعلیم بہاولپور میں حاصل کی۔
احمد ندیم قاسمی نے پہلا شعر انیس سو ستائیس میں کہا جبکہ ان کی پہلی نظم انیس سو اکتیس میں شائع ہوئی۔
اس کے بعد احمد ندیم قاسمی نے ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ جن میں شاعری، تنقید، افسانہ نگاری، بچوں کے ادب کے علاوہ انشائیے اور ڈرامے بھی شامل ہیں۔
احمد ندیم قاسمی کو حکومت پاکستان نے ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں انیس سو اڑسٹھ میں تمغہ حسنِ کارکردگی اور انیس سو اسی میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔ ادب کی دنیا کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جولائی 2006 کو لاہور میں اس دارفانی سے کوچ کرگیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں