صادق آباد: اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی میں تصادم، 16 افراد جاں بحق، 84 زخمی

صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئیں جس کی نتیجے میں 16 افراد جاں بحق اور 84 زخمی ہوگئے۔

حادثے میں 11 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ مزید 5 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دوران علاج چل بسے۔

اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) صادق آباد کے مطابق ولہار اسٹیشن پر لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس وہاں کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 3 سے 4 بوگیاں الٹ گئیں اور 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثرہوئیں جبکہ اکبر ایکسپریس کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) رحیم یار خان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور مسافروں کو کھانا اور پانی بھی فراہم کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مسافروں کو بسوں کے ذریعے منزل مقصود پر پہنچایا جائے گا’۔

انہوں نے واقعے میں 16 افراد کے جاں بحق ہونے اور 84 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

دوسری جانب ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا تھا کہ ‘ حادثہ سگنل تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی ہے’۔

پولیس ترجمان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے افراد کو قریبی ٹی ایچ کیو ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔

انہوں نے عوام سے خون کے عطیات دینے کے لیے فوری طور پر دونوں ہسپتالوں میں پہنچنے کی اپیل بھی کی۔

انفارمیشن سیل قائم
پاکستان ریلوے نے اکبر ایکسپریس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے سکھر ڈویژن میں انفارمیشن سیل قائم کردیا۔

ریلوے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لواحقین معلومات حاصل کر نے کے لیے 0719310087 اور 03333993999 ان نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

حادثے کی تحقیقات کا اعلان
وزیر ریلوے شیخ رشید نے حادثے پر قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ‘حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے، غفلت برتنےوالوں کومعاف نہیں کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر چلنے والے حادثے کے مناظر کافی دل خراش ہیں، واقعے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

شیخ رشید نے صادق آباد ٹرین حادثہ میں مرنے والے اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان کا اعلان بھی کیا۔

وزیر ریلوے کی جانب سے حادثے میں جاں بحق لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ روپے اور زخمی ہونے والوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم کا اظہار افسوس
وزیر اعظم عمران خان نے واقعے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘صادق آباد ٹرین حادثہ نہایت افسوسناک ہے، لواحقین کے غم میں برابر کا شریک اور زخمیوں کی جلد/مکمل شفایابی کیلئے دعاگو ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر ریلوے کو ریلوے انفرااسٹرکچر سے برتی جانے والی دہائیوں پر محیط غفلت کے فوری ازالے اور سیکیورٹی کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے’۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور رحیم یار خان انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

حالیہ عرصے میں ہونے والے ریلوے حادثات
واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں ٹرینوں کے تصادم اور پٹڑی سے اترنے کے واقعات میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل 20 جون 2019 کو حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے۔

17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرہ فیروز کے علاقے پڈعیدن کے قریب لاہور سے کراچی آنے والی مال گاڑی کے حادثے کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوگئی۔

یکم اپریل کو رحیم یار خان میں مال بردار ریل گاڑی ‘پی کے اے-34’ کی 13 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھی جس سے محکمہ ریلوے کو نہ صرف لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا بلکہ ملک بھر میں مسافر ریلوں کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

24 دسمبر 2018 کو فیصل آباد میں شالیمار ایکسپریس کو پیچھے سے آنے والی ملت ایکسپریس نے ٹکر ماردی تھی، حادثے میں ایک مسافر جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے تھے۔

27 ستمبر 2018 کو دادو میں سن کے قریب ٹرین کی گیارہ بوگیاں پٹڑی سے اترگئی تھیں جس کے نتیجے میں 5 مسافر زخمی ہوگئے تھے۔

16 جون 2018 کو میانوالی میں خوشحال خان ایکسپریس کی سات بوگیاں پٹڑی سے اترگئی تھیں، حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت 20 مسافر زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں