اور کرو ویڈیو لیک۔۔۔۔ جج ارشد ملک کی معطلی نواز شریف کے لیے وبالِ جان بن گئی، مسلم لیگ (ن) کے بانی ایک اور مصیبت میں پھنس گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جج ارشد ملک کی معطلی نواز شریف کیلئے فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن گئی، عہدے سے ہٹائے گئے جج کے فیصلے کالعدم قرار دیے جانے کی صورت میں سابق وزیراعظم کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس بھی دوبارہ سے کھل جائے گا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے

جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے پر ن لیگ کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ن لیگ کی جانب سے عدلیہ کے اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کی رائے میں ارشد ملک کو عہدے سے ہٹایا جانا ن لیگ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ن لیگ کا مطالبہ ہے کہ ارشد ملک کی جانب سے نواز شریف کیخلاف دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ اس پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تو نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، تو پھر ارشد ملک کی جانب سے ہی نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس ریلیف دینے کا فیصلہ بھی کالعدم ہو جائے گا۔یوں نواز شریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس بھی دوبارہ کھل جائے گا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے اعلان کے مطابق جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔جج ارشد ملک کی خدمات واپس کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قانون کو خط بھی لکھ دیا۔قائم مقام چیف جسٹس نے خط میں کہا ہے کہ وزرات قانون جج ارشد ملک کی خدمات واپس لے۔اس کے بعد ارشد ملک کو بطور احتساب عدالت کے جج عہدے سے ہٹا دیا گیا، جج ارشد ملک کی کی خدمات وزارت قانون و انصاف کو واپس کر دی گئیں۔ اس سے قبل جج ارشد ملک نے حلفیہ بیان جواب رجسٹرار ہائیکورٹ میں جمع کروا تھا، جج ارشد ملک کی جانب سے دستاویزات بھی جمع کروائی گئیں۔دستاویزات اور حلفیہ بیان قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کو پیش کیا گیا۔ارشد ملک

نے خط کے ذریعے اپنے جواب میں کہا تھا کہ میں حلفیہ بیان دیتا ہوں میرا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے۔ جج ارشد ملک نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ میرے خلاف پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔جج ارشد ملک نے ویڈیو سے متعلق کہا کہ ویڈیو کو ایڈٹ کر کے چلایا گیا۔جج ارشد ملک نے اپنے جواب میں الزمات کی تردید کی اور کہا کہ میرے اوپر فیصلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ارشد ملک نے یہ خط اپنے صفائی کے لیے پیش کیا۔ارشد ملک نے اپنے بیان کے ساتھ اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز بھی لگائی ہے۔جب کہ دوسری جانب سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست دائر کردی گئی تھی۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے لیے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت ہر صورت اس معاملے کی تحقیقات کرائے، جج ارشد ملک نے جو پریس ریلیز میں رشوت کی آفر کرنے کی بات کی ہے وہ سنجیدہ نوعیت کی ہے، جج ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں مریم نواز کے لگائے گئے الزمات ماننے سے انکار کرچکے ہیں لہذا جو الزامات عدلیہ پر لگائے گئے اس کی تحقیقات کا ہونا ضروری ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 6 جولائی کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے، اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور بلیک میل ہوتی ہے لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں