سپر اوور بھی ٹائی ہونے کے باوجود انگلینڈ کو فاتح کیوں قرار دیا گیا؟

لندن(ویب ڈیسک) انگلینڈ کی ٹیم نے زیادہ باﺅنڈریاں لگانے کے سبب پہلی مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ اپنے نام کرلیا ۔ میچ ٹائی ہونے کے بعد سپر اوور کی پہلی گیند پر انگلینڈ نے تین رنز بنائے جس کے بعد دوسری گیند پر بٹلر ایک رن بنانے میں کامیاب رہے۔اوور کی تیسری گیند پر سٹوکس چوکا لگانے میں کامیاب رہے جبکہ چوتھی گیند پر انہوں نے سنگل لے کر بٹلر کو اسٹرائیک دی۔

اوور کی پانچویں گیند پر بٹلر دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر آخری گیند پر چوکا لگا کر سپر اوور میں اپنی ٹیم کا اسکور 15تک پہنچا کر نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ جیتنے کے لیے 16رنز کا ہدف دیا ہے۔سپر اوور میں ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے گوفرا آرچر نے پہلی گیند وائیڈ کرائی البتہ وہ امپائر کے اس فیصلے سے کچھ خاص خوش نظر نہ آئے۔
اس کے بعد کرائی گئی پہلی گیند پر کیوی بلے باز دو رنز لینے میں کامیاب رہے اور پھر اگلی گیند پر نیشام نے چھکا لگا دیا۔

اگلی گیند پر نیشام دو رن لینے میں کامیاب رہے اور پھر سپر اوور کی چوتھی گیند پر بھی وہ دو رن لینے میں کامیاب رہے۔اوور کی پانچویں گیند نیشام نے ایک رن لے کر گپٹل کو اسٹرائیک دی تو نیوزی لینڈ کو میچ کی آخری گیند پر فتح کے لیے دو رنز درکار تھے۔میچ کی آخری گیند پر بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک ہی رن لینے میں کامیاب رہی اور یوں میچ ایک مرتبہ پھر ٹائی ہو گیا لیکن میچ میں زیادہ باﺅنڈریز مارنے کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ چیمپیئن بننے کا تاج سر پر سجانے میں کامیاب ہو گئی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں