ڈرائیور کے نازک حصے میں لوہے کا راڈ گھسانے والے پی ٹی آئی کے رہنماءکو وزارت انسانی حقوق میں کیا عہدہ دیدیا گیا؟ ایسی خبر آ گئی کہ آپ کے غصے کی انتہاءنہ رہے گی

اسلام آباد (آن لائن) وزارت انسانی حقوق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءمیر افتخار احمد کو سندھ کیلئے انسانی حقوق کا ترجمان مقرر کر دیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے غلطی کرنے پر اپنے ڈرائیور پرناصرف تشدد کیا بلکہ اس کے نازک حصے میں لوہے کا راڈ بھی ڈال دیا تھا۔

نجی خبر رساں ادارے ’پرو پاکستانی‘ کے مطابق افتخار احمد کو اپنے ڈرائیور پر ظالمانہ اور وحشیانہ تشدد کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ رواں سال اپریل کے آخری ہفتے میں پیش آیا جب افتخار احمد کے ڈرائیور اللہ رکھیو کا افتخار کے کزن کیساتھ کسی بات پر اختلاف ہوا۔ بعد ازاں افتخار نے اللہ رکھیو کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا جہاں اپنے کزنز کیساتھ مل کر ناصرف اس پر تشدد کیا بلکہ اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی۔

تشدد سے بے حال اللہ رکھیو کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوئی تو میڈیا کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہو گئی۔ ویڈیو میں اللہ رکھیو کو سٹریچر پر اوندھے منہ لیٹے انصاف کے حصول کی اپیل کرتے دیکھا جا سکتا تھا جبکہ اس کی میڈیکل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ نازک حصے میں سریا ڈالنے کے باعث اسے 8 ٹانکے لگانے پڑے۔

سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر یہ معاملے سامنے آنے کے بعد گھوٹکی کے بااثر خاندان کیساتھ تعلق رکھنے والے افتخار کیخلاف مقدمہ تو درج کر لیا گیا مگر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور اب اسی افتخار احمد کو وزارت انسانی حقوق نے سندھ کیلئے ترجمان مقرر کر دیا ہے جس کی نشاندہی سب سے پہلے سرگرم کارکن جبران ناصر نے کی اور افتخار احمد کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا جو 10 جولائی کو جاری کیا گیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں