ٹائٹینک میں ہیرو کی موت پر لیونارڈو ڈی کیپریو کا پہلی بار ردعمل

اگر آپ نے ہولی وڈ فلم ٹائٹینک دیکھی ہو تو اس کا اختتام ضرور یاد ہوگا جس میں ہیروئین ایک لکڑی کے تختے پر چڑھ کر بچ جاتی ہے جبکہ ہیرو اس تختے کو پکڑ کر تیرتے ہوئے ٹھنڈ سے مرجاتا ہے۔
1997 میں ریلیز ہونے والی فلم کو اب 22 سال مکمل ہورہے ہیں مگر اب بھی مداحوں کی جانب سے اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب روز (ہیروئین) کو بچایا جاسکتا تھا تو جیک (ہیرو) کو اس تختے پر جگہ دیکر زندہ کیوں نہیں رکھا گیا؟
عرصے سے مداح اس فلم سے جڑے افراد سے یہ سوال کررہے ہیں اور اب پہلی بار جیک کا کردار ادا کرنے والے لیونارڈو ڈی کیپریو نے اس بارے میں بات کی ہے۔
لیونارڈو اپنی نئی فلم ونس اپون اے ٹائم ان ہولی وڈ کی پروموشن میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے بریڈ پٹ اور مارگوٹ روبی کے ساتھ ایم ٹی وی کو انٹرویو دیا۔
اس موقع پر لیونارڈو ڈی کیپریو سے پوچھا گیا کہ کیا جیک کو روز کے ساتھ لکڑی کے تختے پر جگہ دیکر بچایا نہیں جاسکتا تھا تو لیونارڈو ڈی کیپریو نے زمین پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ‘میں اس پر کچھ کہنا نہیں چاہتا’۔
اس موقع پر ونس اپون اے ٹائم ان ہولی وڈ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے بریڈ پٹ اور مارگوٹ روبی نے بھی پرمزاح جملے کہے بلکہ بریڈ پٹ نے تو وعدہ کیا کہ وہ واپس جاکر اس فلم کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔
مارگوٹ روبی نے کہا ‘میرے خیال میں یہ جدید سنیما کا سب سے بڑا تنازع ہے’۔
بریڈ پٹ نے لیونارڈو ڈی کیپریو سے پوچھا ‘کیا تم وہاں گھس نہیں سکتے تھے؟ تم ایسا کرسکتے تھے کیا نہیں کرسکتے تھے’ جبکہ مارگوٹ روبی نے ڈی کیپریو سے پوچھا کہ کیا دروازہ بہت چھوٹا تھا، دونوں کے سوال پر لیونارڈو ڈی کیپریو نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔
خیال رہے کہ روز کا کردار ادا کرنے والی کیٹ ونسلیٹ نے 2016 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اس معاملے پر بات کی تھی اور ان کا کہنا تھا بلکہ انہوں نے زور دیا ‘جیک کو اس دروازے میں فٹ کیا جاسکتا تھا’۔
دوسری جانب 2017 میں فلم کے 20 سال مکمل ہونے پر ڈائریکٹر جیمز کیمرون سے جب یہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جیک کی موت اسکرپٹ میں طے کردی گئی تھی اور تختے میں بیٹھتا یا نہیں، اسے مرنا ہی تھا، کیونکہ فلم کی کہانی موت اور علیحدگی کے بارے میں ہے۔
انہوں نے کہا ‘اس کا جواب بہت سادہ ہے کیونکہ اسکرپٹ کے صفحہ نمبر 147 میں لکھا تھا کہی جیک کو مرنا ہے اور بس، یقیناً یہ ایک آرٹسٹک انتخاب تھا’۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دروازہ بس اتنا ہی بڑا تھا جو روز کو سنبھالے رکھتا، اس میں اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہ جیک کو بھی سنبھالے رکھتا، یہ بہت مضحکہ خیز ہے کہ 20 سال بعد اس پر بحث کررہے ہیں۔
ٹائٹینک نے دنیا بھر سے 2 ارب ڈالرز کمائے تھے اور کافی عرصے تک وہ اواتار کے بعد سب سے زیادہ کمانے والی دوسری فلم تھی، تاہم اب اس کی جگہ ایوینجرز: اینڈگیم نے لے لی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...