پردے کے پیچھے کیا ہوتا رہا….؟ جاوید چوہدری

یہ کہانی نومبر 2001ء میں ملتان میں شروع ہوئی‘ ملتان میں چرس کی اسمگلنگ کا ایک بین الاقوامی ریکٹ تھا‘ سرغنہ ملک مشتاق تھا‘ یہ دوستوں میں بلیک پرنس مشہور تھا‘ خوش حال‘ فراخ دل اور بااثر تھا چناں چہ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر اور آصف علی زرداری کے دوستوں میں شامل ہو گیا‘ یہ بیک وقت اچھا اور برا انسان تھا‘ یہ یورپ میں چرس بھی اسمگل کرتا تھا‘ بلیک پرنس کی بیوی ہالینڈ سے تعلق رکھتی تھی اور یہ لوگ ہالینڈ سے اپنا ریکٹ چلاتے تھے۔

ملتان کا ایک کردار میاں ادریس اور بلیک پرنس کا بھتیجا ملک پرویز اس مافیا کے اہم رکن تھے‘ علی پور کے قریب اس زمانے میں ڈرائی پورٹ ہوتی تھی‘ یہ لوگ اس پورٹ کے ذریعے منشیات اسمگل کرتے تھے‘ بلیک پرنس نے 2001ء میں ساڑھے پانچ ہزار کلو گرام چرس اکٹھی کی اور یہ چرس کنٹینروں کی دیواروں میں چھپانا شروع کر دی‘ یہ لوگ یہ کنٹینر ہالینڈ بھجوانا چاہتے تھے لیکن پھر مخبری ہو گئی۔

اے این ایف نے چھاپا مارا اور 20 نومبر 2001ء کو ساڑھے پانچ ہزار کلو گرام چرس پکڑ لی‘ یہ پاکستان کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی کھیپ تھی‘ ملک مشتاق (بلیک پرنس)‘ میاں ادریس اور ملک پرویز تینوں گرفتار ہو گئے‘ کراچی کا ایک بزنس مین ملک احمد بھی اس ریکٹ کا حصہ نکلا‘ یہ کراچی میں راڈو گھڑیوں کا ’’فرنچائز ہولڈر‘‘ تھا‘ جج ارشد ملک اس وقت ملتان میں ایڈیشنل سیشن جج ہوتے تھے‘ میاں ادریس کا بھائی میاں طارق اس وقت ملتان میں ٹیلی ویژن سیٹ بیچتا تھا‘ یہ بھائی کی مدد کے لیے گھر سے نکلا اور کورٹ کچہریوں کے چکر لگانے لگا‘ یہ چکر عدالتوں اور جوڈیشل سیکٹر میں اس کے تعلقات بڑھاتے چلے گئے۔
آصف علی زرداری کے حکم پر لطیف کھوسہ نے بلیک پرنس اور میاں ادریس کا کیس لے لیا ‘ کیس کی پیروی کے دوران میاں طارق لطیف کھوسہ کا دوست بھی بن گیا‘ میاں طارق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وکیلوں‘ ججوں‘ پولیس اور آئی بی کا ’’فسیلی ٹیٹر‘‘ بنتا چلا گیا‘ یہ ان کے لیے ایک دوسرے کے درمیان رابطہ بھی بن جاتا تھا‘ یہ ان کے لیے پارٹیاں بھی کراتا تھا اور لین دین کا بندوبست بھی کرتا تھا‘ یہ اس دوران پکا کام کرنے کے لیے تمام فریقین کی ’’ویڈیوز‘‘ بنا لیتا تھا‘ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت نے آصف علی زرداری کے خلاف درج منشیات کے مقدمے کو منطقی نتیجے تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

بلیک پرنس واحد کردار تھا جو حکومت کی بھرپور مدد کر سکتا تھا چناں چہ ایجنسیوں نے سینٹرل جیل ملتان میں بلیک پرنس سے رابطہ کیا اور یہ آصف علی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہو گیا لیکن یہ عین گواہی کے دن مکر گیا‘ ایجنسیوں نے اس پر بھرپور دباؤ ڈالا لیکن یہ نہ مانا‘ آصف علی زرداری نے اس کے اس احسان کا بدلا 2008ء میں دیا‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی‘ عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس آف پاکستان تھے‘ لطیف کھوسہ اٹارنی جنرل‘ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور آصف علی زرداری صدر‘ بلیک پرنس کی پٹیشن سپریم کورٹ پہنچی‘ کورٹ نمبر ون میں سماعت ہوئی اور چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

کیس بھی بعد ازاں ختم ہو گیا‘ بلیک پرنس لاہور میں آباد ہو گیا اور یہ عام اور گم نام لوگوں جیسی زندگی گزارنے لگا‘ میاں ادریس باہر آ کر خاندان سے لڑ پڑا‘ اپنی جائیداد بیچی‘ پیسا اکٹھا کیا اور ملک سے باہر (غالباً بحرین) چلا گیا‘ پیچھے رہ گیا میاں طارق‘اس نے ملتان میں اسمگلڈ اور جعلی ایل سی ڈیز کی دکان کھول لی تاہم یہ جوڈیشری‘ وکلاء برادری‘ پولیس اور آئی بی کے ساتھ رابطوں میں رہا‘ یہ اس دوران اپنے تمام دوستوں کی ویڈیوز بھی بناتا رہا‘ اس کے بیٹے بھی بعد ازاں والد کے اس کام میں شامل ہو گئے‘ یہ لوگ اسلام آباد اور لاہور بھی جاتے تھے‘ دوستوں کی ’’خدمت‘‘ کرتے تھے اور اس خدمت کی ویڈیو بنا لیتے تھے‘ جج ارشد ملک بھی اس خدمت کی زد میںآ گیا‘ اس کی صوفے کے اوپر ویڈیو بنی اور یہ ویڈیو ارشد ملک کے ساتھ ساتھ پوری جوڈیشری کی ساکھ نگل گئی‘ میاں طارق اپنے دوستوں کو برملا یہ بھی بتاتا تھا میرے پاس لطیف کھوسہ کے بڑے بڑے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں‘ ہم یہ کہانی یہاں روکتے ہیں اور کہانی کے دوسرے کرداروں کی طرف آتے ہیں۔

جج ارشد ملک راولپنڈی کے رہائشی ہیں‘یہ جج بننے سے پہلے راولپنڈی میں پریکٹس کرتے تھے‘ راولپنڈی میں ان کے چار لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار ہوئے‘ پہلا شخص ناصر جنجوعہ تھا‘ یہ لالہ موسیٰ سے تعلق رکھتا ہے‘ اس کے والد امام دین جنجوعہ شہر کی مشہور ترین ہستی تھے‘ یہ ملٹری اور سول کنٹریکٹر تھے۔ ’’مڈ جیک‘‘ ان کی کمپنی تھی‘ یہ ایوب خان کے دور ہی میں کروڑپتی بن چکے تھے‘امام دین جنجوعہ کے انتقال کے بعد کمپنی ناصر جنجوعہ کے پاس چلی گئی‘ یہ 35 سال سے میاں نواز شریف کے دوستوں کے حلقے میں بھی شامل ہے‘ یہ بیورو کریسی‘ جوڈیشری اور آرمی آفیسرز کے ساتھ تعلقات بھی رکھتا تھا‘ حلقہ وسیع تھا‘ لوگ اپنی پروموشن اور تبادلوں کے لیے اس کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔

دوسرا کردار ناصر بٹ کا بڑا بھائی تھا‘یہ لوگ دھڑے باز اور دشمن دار تھے یا کورٹ کچہری کے چکر لگاتے رہتے تھے اور ان چکروں میں وکیلوں‘ ججوں اور پولیس افسروں کو اپنا دوست بنالیتے تھے‘ ناصر بٹ بعد ازاں میاں نواز شریف کے قریب پہنچ گیا‘ یہ ان کا جاں نثار بن گیا‘ تیسرا کردار مہر جیلانی تھا‘ یہ میاں طارق سے ملتا جلتا کردار تھا‘ یہ راولپنڈی میں سرکاری ملازموں کا ٹاؤٹ مشہور تھا‘ یہ ہر اہم جج‘ پولیس افسر اور سیاستدان کے قریب پہنچ جاتا تھا اور ان کے گندے ’’کچھے‘‘ دھونا شروع کر دیتا تھا اور چوتھا کردار خرم یوسف تھا‘ یہ پراپرٹی ڈیلر ہے اور اہم لوگوں کے ساتھ تصویریں کھینچوا کر خود کو اہم ثابت کرنے کی لت میں مبتلا ہے‘ جج ارشد ملک سمیت یہ سارے کردار ناصر جنجوعہ کے حلقے میں شامل تھے۔

ناصر جنجوعہ کے حلقے میں دو اور لوگ بھی شامل تھے (یہ آج بھی ہیں)‘ میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر اور نیب کے سابق چیئرمین قمر زمان چوہدری‘ یہ دونوں ناصر جنجوعہ کے روزانہ کے ملاقاتی ہیں‘ ہم اب میاں نواز شریف کے کیس کی طرف آتے ہیں‘ میاں نواز شریف کا کیس نیب کورٹ نمبر ایک میں شروع ہوا‘ شروع میں جج محمد بشیر کیس سن رہے تھے‘ میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے 9 جولائی 2018ء کو جج محمد بشیر کی غیرجانبداری پر سوال اٹھایا اور کہا’’آپ شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دے چکے ہیں لہٰذا مناسب یہی ہے کہ آپ دیگر 2 ریفرنسز العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کی سماعت نہ کریں‘‘جج محمد بشیر نے 16 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھ کردونوں ریفرنسز کی سماعت سے معذرت کر لی یوں8 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر یہ کیس احتساب عدالت نمبردو کے جج ارشد ملک کے حوالے کر دیا گیا۔

ارشد ملک کے بقول نواز شریف کے مقدمات کی منتقلی کے بعد مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے ان سے رابطہ کیا‘ ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا اس نے مسلم لیگ ن کی حکومت کی ایک با اثر شخصیت کے ذریعے انھیں احتساب عدالت کا جج لگوایا ہے‘ آپ اب صورت حال دیکھیے‘ سابق چیئرمین نیب بھی ناصر جنجوعہ کے دوست‘ کیپٹن صفدر بھی ناصر جنجوعہ کے دوست اور جج ارشد ملک بھی ناصر جنجوعہ کے دوست‘ میں نے جب اس اسٹوری پر کام شروع کیا تو مجھے پتا چلا جج ارشد ملک ناصر جنجوعہ کے ذریعے تمام پس پردہ انفارمیشن شریف فیملی تک پہنچا دیتے تھے۔

آپ ان دنوں کی ن لیگ کے لیڈرز کی پریس ٹاکس نکالیں اور یہ پریس ٹاکس آج کی کہانی کے قریب رکھ کر دیں تو آپ بڑی آسانی سے خفیہ انفارمیشن کے سورس تک پہنچ جائیں گے‘ بہرحال قصہ مختصر ارشد ملک کے بقول ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی نے انھیں 10 کروڑ روپے مالیت کے یوروز کی پیش کش کی‘ ناصر جنجوعہ نے یہ بھی کہا‘ دو کروڑ روپے مالیت کے یوروز اس وقت بھی میری گاڑی میں پڑے ہیں‘ آپ یہ فوری طور پر وصول کر لیں‘ یہ رقم ناصر جنجوعہ خود نہیں دے رہا تھا‘ یہ میاں نواز شریف کے ایک جیالے نے فراہم کی تھی لیکن جج صاحب کے بقول ’’میں نے انکار کر دیا‘‘۔

میں اب کہانی کو مزید آگے بڑھاتا ہوں‘ عمران خان کی حکومت آ گئی‘ ملک کے زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا یہ حکومت کام یاب ہو جائے گی لیکن حکومت کم زور ثابت ہوئی اور مارچ 2019ء تک صاف نظر آنے لگا یہ حکومت نہیں چل سکے گی‘ سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو میاں نواز شریف کو ڈیڑھ ماہ کے لیے گھر جانے کی اجازت بھی دے دی‘ یہ اجازت بھی تبدیلی کا اشارہ ثابت ہوئی‘ اب شریف فیملی کے بقول جج ارشد ملک ڈر گیا‘ اس نے سوچا میاں نواز شریف واپس آ جائے گا اور یہ مجھے نہیں چھوڑے گا چناں چہ یہ ناصر بٹ کے بڑے بھائی‘ مہر جیلانی اور خرم یوسف کے ذریعے شریف فیملی سے رابطے کرنے لگا‘ یہ ناصر بٹ سے بھی ملا اور اس سے میاں نواز شریف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی‘ ناصر بٹ نے میاں نواز شریف سے پوچھا اور 6 اپریل 2019ء کو جج ارشد ملک کو جاتی عمرہ لے گیا‘ ملاقات میں کیا ہوا؟

یہاں دو ورژن ہیں‘ شریف فیملی اور ناصر بٹ کے بقول جج ارشد ملک نے میاں نواز شریف سے معافی بھی مانگی اور ان کرداروں کے نام بھی دیے جنہوں نے اس پر دباؤ ڈال کر فیصلہ لیا تھا‘ ارشد ملک نے فیصلہ لکھنے اور ان میں ترمیم کرنے والے لوگوں کے نام بھی بتائے تھے جب کہ جج صاحب کے بقول میں نے میاں نواز شریف سے کہا ‘ میں نے فیصلہ میرٹ پر کیا تھا جس پر میاں نواز شریف ناراض ہو گئے‘ یہ جج ارشد ملک کی شریف فیملی سے پہلی ملاقات تھی‘ دوسری اور تیسری ملاقات جدہ میں ہوئی اور خرم یوسف جج صاحب کو لے کر سعودی عرب گیا اور یہ دونوں ملاقاتیں انتہائی خطرناک اور ہوش ربا ہیں۔

پردے کے پیچھے کیا ہوتا رہا (دوسرا حصہ)

جج محمد ارشد ملک نے 6 اپریل 2019 کو جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف سے ملاقات کی لیکن اس ملاقات سے پہلے ایک دل چسپ واقعہ پیش آیا‘ جج کے بقول فروری میں ناصر بٹ اور خرم یوسف میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا ’’کیا ناصر جنجوعہ نے آپ کو ملتان کی ویڈیو دکھا دی تھی‘ میں یہ سن کر حیران رہ گیا‘‘ میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو ملتان کی ویڈیو کے بارے میں بھی بتاتا چلوں‘ یہ ویڈیو میاں طارق نے ملتان میں بنائی تھی‘ یہ کسی ایسے گھر کی ویڈیو ہے جس میں دیواروں پر تصویریں لگی ہیں‘ سامنے صوفہ رکھا ہوا ہے اور اس صوفے پر غیر اخلاقی حرکتیں ہو رہی ہیں۔

ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ اس قدر مدہوش ہیں کہ یہ کیمرہ مین کی موجودگی سے بھی بے پروا ہو چکے ہیں‘اس ویڈیو کے بارے میں بھی تین ورژن ہیں‘ شریف فیملی کا کہنا ہے یہ ویڈیو میاں طارق نے ریاستی اداروں کو دے دی تھی اور اداروں نے یہ ویڈیو دکھا کر جج صاحب کو میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے پر مجبور کیا تھا‘یہ موقف مریم نواز نے چھ جولائی کی پریس کانفرنس میں بھی دیا تھا جب کہ جج صاحب کا دعویٰ ہے یہ ویڈیو میاں طارق سے ناصر جنجوعہ‘ خرم یوسف اور ناصر بٹ نے خریدی تھی۔

میری اپنی اطلاع کے مطابق یہ ویڈیو ناصر جنجوعہ اور خرم یوسف نے لاہور کے فائیو اسٹار ہوٹل میں پانچ کروڑ روپے اور ایک جیپ کے بدلے خریدی ‘ رقم میاں نواز شریف کے ایک عزیز نے ادا کی تھی اور سودا پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اہم لیڈر نے کرایا تھا‘ یہ لیڈر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور اٹھارہ سال سے میاں طارق کو جانتے ہیں‘ سودے میں ملتان کے ایک اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
ویڈیو میں جج صاحب کا چہرہ کلیئر نہیں تھا‘خریدار فیس میچنگ چاہتے تھے‘ اس فیس میچنگ کے لیے ایک لمبا اسٹیج سجایا گیا‘ ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دیا‘ جج صاحب میاں طارق سے رابطے پر مجبور ہو گئے‘ میاں طارق نے جج صاحب کو ملتان بلایا اور یہ کہہ کر انھیں اخبار کے دفتر لے گیا ’’آپ کی جان صرف یہ ایڈیٹر چھڑوا سکتا ہے‘‘ اور جج صاحب مجبوری میں میاں طارق کے ساتھ اخبار کے دفتر چلے گئے‘ دفتر میں کیمرے لگے تھے‘ جج صاحب کی ہر اینگل سے فلم بنا لی گئی‘ یہ فلم بعد ازاں غیر اخلاقی ویڈیو سے ’’میچ‘‘ کی گئی‘ ویڈیو میچ کر گئی اور یوں بات سودے تک پہنچ گئی۔

میں نے جج صاحب کی ملتان آمد اور اخبار کے دفتر جانے کی معلومات کے لیے ایکسپریس ملتان کے بیورو چیف شکیل انجم سے رابطہ کیا‘ یہ پرانے صحافی ہیں‘ بلیک پرنس اور ساڑھے پانچ ہزار کلو گرام چرس کی خبر بھی شکیل انجم نے 2001 میں بریک کی تھی‘ شکیل انجم نے تھوڑا سا وقت لیا اور جج صاحب کی ملتان آمد‘ ہوٹل گریس میں قیام اور اخبار کے دفتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا کر بھجوا دی‘ میں شکیل انجم کے ’’ذرایع‘‘ پر حیران رہ گیا بہرحال قصہ مختصر جج صاحب کا چہرہ میچ ہوا اور ویڈیو بک گئی اور تیسرا ورژن جج ارشد ملک کا ہے‘ یہ دعویٰ کرتے ہیں یہ ویڈیو ن لیگ نے میاں طارق سے حاصل کی اور یہ لوگ مجھے اس کے ذریعے مسلسل بلیک میل کرتے رہے۔

ہم اب مین اسٹوری کی طرف واپس آتے ہیں‘ جج ارشد ملک6 اپریل کو جاتی عمرہ میں میاں نواز شریف سے ملے‘ ملاقاتی روم میں بھی کیمرے لگے تھے اور جج صاحب اور میاں صاحب کی ساری گفتگو ریکارڈ ہو رہی تھی‘ جج صاحب بعد ازاں 28 مئی کو فیملی سمیت سعودی عرب چلے گئے۔

جج صاحب کا کہنا ہے یہ ان کا ذاتی دورہ تھا جب کہ دوسرے فریقین کا دعویٰ ہے خرم یوسف اور ناصر بٹ انھیں عمرے پر لے کر گئے تھے تاہم یکم جون کو مدینہ منورہ میں جج ارشد ملک اور حسین نواز کی ملاقات ہوئی‘ یہ ملاقات بھی باقاعدہ ریکارڈ ہوئی‘ شریف فیملی نے دعویٰ کیا یہ ملاقات جج صاحب کی مرضی اور خواہش سے ہوئی تھی اور اس میں انھوں نے ان تمام لوگوں کا ذکر کیا تھا جو نواز شریف کے مقدمات کے دوران جج صاحب سے ملاقات کرتے رہے۔

جج ارشد ملک نے ان سینئر ججوں کا تذکرہ بھی کیا جو بات کرنے سے پہلے ان سے حلف لیتے تھے اور انھیں پھر ہدایات دیتے تھے‘ حسین نواز کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو اس اسکینڈل میں بہت اہم ہے‘ یہ ویڈیو ثابت کرے گی یہ ملاقات جج صاحب کی مرضی سے ہوئی تھی یا پھر یہ بلیک میل ہو کر سعودی عرب پہنچے تھے‘ یہ ویڈیو یہ بھی ثابت کرے گی 50 کروڑ روپے اور کینیڈا میں سیٹل منٹ کی پیش کش حسین نواز نے کی تھی یا پھر یہ جج صاحب کی ڈیمانڈ تھی تاہم یہ درست ہے مدینہ منورہ میں 50 کروڑ روپے کی بات ہوئی تھی اور کرنے اور سننے والے دونوں کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہوا تھا یہ مدینہ منورہ میں بیٹھ کر کیا بات کر رہے ہیں‘ یہ روضہ رسولؐ کے سامنے کیا گندگی پھیلا رہے ہیں؟۔

ہم اگر یہاں تک کی کہانی کا تجزیہ کریں تو ہمیں اس کہانی کے تمام کردار ننگے اور قابل افسوس دکھائی دیتے ہیں‘ آپ جج صاحب کا کردار دیکھیے‘ یہ 2001میں ملتان میں منشیات کے اسمگلروں سے بھی ملتے رہے‘ یہ ان کی پرائیویٹ پارٹیوں میں بھی شریک ہوتے رہے اور ان کی غیر اخلاقی ویڈیوز بھی بنتی رہیں لیکن ریاست کے کسی ادارے کو کانوںکان خبر نہیں ہو ئی‘ یہ جج صاحب بعد ازاں ترقی کرتے کرتے اس لیول پر آگئے جہاں ان کی عدالت میں چار سابق وزراء اعظم اور ایک سابق صدر کا کیس چلنے لگا۔

یہ میاں نواز شریف کے کیس کے دوران شریف فیملی کے ایجنٹوں سے بھی ملتے رہے ‘ ان سے پیش کشیں اور دھمکیاں بھی وصول کرتے رہے اور یہ اپنے کسی سینئر کو اطلاع تک نہیں دیتے تھے‘ یہ ناصر جنجوعہ سے یہ تک بھی سن لیتے تھے’’ میں نے میاں نواز شریف کے ذریعے آپ کو احتساب عدالت کا جج لگوایاتھا‘‘ اور یہ اس انکشاف کے باوجود اپنی کرسی پر بھی بیٹھے رہے‘یہ فیصلہ سنانے کے بعد بھی ناصر بٹ‘ خرم یوسف‘ مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ جیسے لوگوں کے ساتھ ملتے رہے۔

یہ جاتی عمرہ میں اس مجرم سے بھی ملاقات کے لیے گئے جسے انھوں نے اپنے ہاتھوں سے سزا دی تھی‘ یہ ناصربٹ اور خرم یوسف سے اپنے گھر میں بھی ملاقات کرتے رہے اور یہ پورے ہوش و حواس میں انھیں یہ بھی بتاتے رہے سازوں کے سُر کس طرح سیدھے اور رواں کیے جاتے ہیں اور میں اس فیصلے پر کس طرح مجبور ہوا تھا اور یہ مدینہ میں حسین نواز سے بھی مل لیتے ہیں اور یہ انھیں یہ بھی بتا دیتے ہیں مجھ سے کب اور کہاں کہاں حلف لیا گیا تھا اور یہ جسارت کس نے کی تھی‘ یہ 50 کروڑ روپے کی آفر بھی سن لیتے ہیں اور یہ واپس آ کر اپنے ادارے کے کسی سینئر کو اعتماد میں نہیں لیتے اور یہ اپنی ویڈیو کا پیچھا کرتے کرتے ملتان بھی پہنچ جاتے ہیں اور ویڈیو کے سوداگر ایڈیٹر کے دفتر سے بھی ہو آتے ہیں اور کسی ادارے کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی اور آپ یہ بھی ملاحظہ کیجیے‘ مریم نواز کیا کر رہی ہیں؟یہ خاتون اور جوان بچوں کی ماں ہو کر ویڈیوز بنوا رہی ہیں۔

غیر اخلاقی ویڈیوز خرید رہی ہیں اور پریس کانفرنس کر کے یہ گند پورے ملک میں پھیلا رہی ہیں‘ میاں نواز شریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہے ہیں‘ میں آج بھی سمجھتا ہوں میاں نواز شریف کو غلط سزا دی گئی تھی لیکن مجھے اس کے باوجود میاں نواز شریف سے یہ توقع نہیں تھی یہ جج ارشد ملک سے جاتی عمرہ میں ملاقات کریں گے اور یہ اپنی نگرانی میں جج کی ویڈیو بنوائیں گے‘ کم از کم میاں نواز شریف جیسے سیریس اور سینئر سیاست دان کو اس گند کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور حسین نواز بھی مدینہ میں جج صاحب سے مل رہے ہیں اور اس کی ویڈیو بنا رہے ہیں‘کیا اخلاقیات ان لوگوں کو اس کی اجازت دیتی ہے؟

شریف فیملی کو جب سسلین مافیا کا خطاب دیا گیا تھاتو ہم سب نے اس پر احتجاج کیا تھا لیکن کیا شریف فیملی نے اس گند کا حصہ بن کر خود کو مافیا ثابت نہیں کردیا؟آپ لیڈر ہیں‘ آپ قوم کے باپ ہیں کم از کم آپ کو اس لیول تک نہیں گرنا چاہیے تھا‘ مجھے میاں نواز شریف سے ہرگز ہرگز یہ توقع نہیں تھی اور پھرآپ صحافیوں کا کردار بھی دیکھیے‘ یہ اپنے دفتر میں کیمرے لگا کر غیر اخلاقی ویڈیو کی خرید وفروخت میں شامل ہو رہے ہیں‘ یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ اور یہ تمام لوگ مل کر کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ۔

میں نہیں جانتا جج ارشد ملک سچے ہیں یا پھر نواز شریف فیملی سچ کہہ رہی ہے لیکن میں اتنا جانتا ہوں یہ کیس اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہو گا‘ یہ ثابت کر دے گا ملک کا کوئی ادارہ قابل احترام نہیں اور عوام اب ملک کے کسی ادارے کی ساکھ‘ ایمان داری اور نیک نیتی کی قسم نہیں کھا سکتے ‘ اللہ تعالیٰ منصف ہے اور جج انصاف میں اللہ کے نائب ہوتے ہیں لیکن یہ نائب اس ملک میں کیا کر رہے ہیں؟ خدا کی پناہ یہ بلیک میل بھی ہو رہے ہیں اوریہ ملزموں اور مجرموں کے ایجنٹوں سے بھی مل رہے ہیں‘ سیاست دان قوم کے سر کی چادر ہوتے ہیں‘ یہ قوم کے عیب ڈھانپتے ہیں لیکن ہمارے سیاست دان کیا کر رہے ہیں؟ یہ ججوں کی خریدو فروخت میں بھی ملوث ہیں‘ یہ ان کی ویڈیوز بھی بنا رہے ہیں اور یہ ان کی آڈیوزبھی ریکارڈ کر رہے ہیں۔

بیورو کریسی ملکوں کا گیئر باکس ہوتی ہے مگر ہمارا گیئر باکس سال سے بند پڑا ہے اور پیچھے رہ گئی حکومت تو آپ سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی پر حکومت کا کردار بھی دیکھ لیجیے گا‘ آپ کو اپنے آپ سے نفرت ہو جائے گی‘ مجھے نہیں معلوم جج ارشد ملک کے ایشو کا کیا حل نکلتا ہے؟ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کس نتیجے پر پہنچتا ہے لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں جج ارشد ملک نے ملک کا عدل اور انصاف کا پورا نظام داؤ پر لگا دیا۔

موصوف نے ثابت کر دیا قوم گندگی کے ایک ایسے ڈھیر پر بیٹھی ہے جس کے نیچے بدبودار بیماری کے سوا کچھ نہیں اور میاں نواز شریف نے بھی یہ کھیل‘ کھیل کر اپنی اخلاقی سیاست کا جنازہ نکال دیا‘ یہ ثابت کر بیٹھے ہیں یہ ناصر بٹ اور مہر جیلانی جیسے ٹاؤٹوں میں گھرے ہوئے ہیں اور یہ بھی گھی نکالنے کے لیے کسی بھی سطح تک جا سکتے ہیں‘ افسوس ہم واقعی گندگی کے ایک ایسے ڈھیر پر ہیں جس میں اوپر نیچے اور دائیں بائیں گندگی کے سوا کچھ نہیں‘ اب صرف اللہ ہی ہماری حفاظت کرسکتاہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں