ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز جرمانے کا معاملہ، اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین پاکستان کی مدد کیلئے میدان میں آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز جرمانے کا معاملہ، اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چین پاکستان کی مدد کیلئے میدان میں آگیا، چین ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول خود سنبھال کر چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو جرمانے کی رقم ادا کر سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 6 ارب ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کو جرمانے سے بچنے کیلئے ایک طریقہ بھی بتا دیا گیا ہے۔

کچھ ماہرین کی جانب سے حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ چین ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان اگر 6 ارب ڈالرز کے جرمانے سے بچنا چاہتا ہے، تو اسے چاہیئے کہ چین سے رابطہ کرے اور اسے قائل کرکے کہ وہ ریکوڈک منصوبے کا کنٹرول حاصل کر لے۔
چین کو پیش کش کی جائے کہ وہ ریکوڈک منصوبے کے جرمانے کی مد میں چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو 6 ارب ڈالرز ادا کر دے، اور بدلے میں منصوبے کا کنٹرول حاصل کر لے۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (اکسڈ) نے ریکوڈک ہرجانہ کیس میں پاکستان پر تقریباً 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ پاکستان کو ہرجانے کی رقم چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ادا کرنا ہوگی۔ عالمی بینک کے ٹریبونل کا فیصلہ 700 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے کے پیرا گراف 171 میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان معاہدے کو کالعدم کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی اور ان کے پاس پیشہ وارانہ مہارت بھی نہ تھی۔

فیصلے میں پاکستان کی طرف سے پیش کیے جانے والے گواہ اور ماہر ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی گواہی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کے گواہ ثمر مبارک مند نے بیان دیا تھا کہ ریکوڈک پروجیکٹ سے ڈھائی ارب ڈالر سالانہ اور مجموعی طور پر 131 ارب ڈالر حاصل ہونا تھے لہٰذا پاکستان کی حکومت کو معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر 4 ارب ڈالر ہر جانہ جب کہ سود اور دیگر اخراجات کی مد میں پونے دو ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے جو کہ مجموعی طور پر تقریباً 6 ارب ڈالر بنتے ہیں۔

وزارت قانون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی قانونی ٹیم کی کامیابی ہے کہ کمپنی کے 16 ارب ڈالر ہرجانے کے دعوے کو 6 ارب ڈالر تک لانے میں کامیاب ہوئی اور اس طرح 10 ارب ڈالر بچالیے۔ذرائع کے مطابق اکسڈ کے فیصلے سے حکومت پاکستان مطمئن نہیں ہے تاہم فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے چیلنج کیا جائے گا۔یاد رہے کہ ٹیتھیان کمپنی کو 1993 میں بلوچستان کے علاقے چاغی میں سونے اور تانبیکے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا لیکن سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2011 میں بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کے لیے ٹتھیان کاپر کمپنی کو دیا جانے والا لائسنس منسوخ کرکے پروجیکٹ کالعدم قرار دیا تھا۔
کمپنی نے عدالتی فیصلے کے خلاف عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے رجوع کیا تھا اور پاکستان سے 16 ارب ڈالر ہرجانہ وصول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...