انسانی حقوق کے تحفظ کا پرچار۔۔۔ پرُامن ملک کی سرزمین مسلمانوں کیلئے تنگ

ترقی یافتہ اور پُرامن ملک نیدرلینڈز میں یکم اگست سے برقعہ پہننے پر پابندی کا اعلان کردیا گیا اور تمام عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کے برقعہ پہننے پرپابندی ہوگی جس کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق برقعہ پہننے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے پر 150 یوروز کا جرمانہ ہوگا۔ اس قانون کا اطلاق سکولوں، پبلک ٹرانسپورٹ،  ہسپتالوں اور سرکاری عمارتوں پر بھی ہوگا۔

قانون کے مطابق سرکاری افسران اور ٹرانسپورٹ ورکرز اس بات کے پابند ہوں گے کہ اگر وہ کسی برقعہ پوش کو دیکھیں تو اسے اپنے چہرے سے نقاب ہٹانے کا کہیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں بس، ٹرین یا سرکاری عمارت سے باہر نکال دیں۔ اگر وہ مزاحمت کریں تو پولیس کی مدد بھی طلب کی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈچ سینیٹرز نے گزشتہ برس جون میں برقعہ پر پابندی کے حق میں قانون منظور کیا تھا جس کا نفاذ اب ہورہا ہے حالانکہ نیدرلینڈز کی سب سے اہم مشاورتی تنظیم ‘کونسل آف اسٹیٹ’ نے برقعہ پر پابندی کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ملک میں پہلے ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت لوگوں پر مخصوص مقامات میں چہرہ ڈھانپے پر پابندی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق نیدرلینڈز میں ایسی خواتین کی تعداد محض 150 ہے جو روزانہ کی بنیاد پر برقعہ یا نقاب پہنتی ہیں۔ نیدرلینڈز کے علاوہ فرانس، اسپین، ڈنمارک، اٹلی و دیگر ممالک میں بھی برقعہ اور نقاب پر پابندی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں