اپوزیشن کی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان تنہا رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں شہبازشریف اور بلاول بھٹو شریک نہیں ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری کل گلگت بلتستان کے دورے پر روانہ ہوں گے، جبکہ شہبازشریف کمر میں شدید درد کے باعث اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی اے پی سی میں مقبوضہ کشمیر کا ایشو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کمر میں شدید درد کے باعث اے پی سی میں شرکت نہیں کریں گے۔
شہبازشریف کی جگہ رانا تنویر اے پی سی کی قیادت کریں گے۔

اسی طرح پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری بھی اپوزیشن کی اے پی سی میں شریک نہیں ہوں گے۔ اپوزیشن کی اے پی سی میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، نیئر بخاری، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر شرکت کریں گے۔ دوسری جانب ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر حکومتی کارکردگی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آج پاکستانی عوام کے ووٹ چوری ہوئے ایک سال ہوگیا۔

لیکن کارکردگی رپورٹ بیان کرنے کے لیے کابینہ کا کوئی وزیرموجود نہیں تھا۔ جب بچے کو پتہ ہووہ تمام مضمون میں فیل ہے تو بچہ رپورٹ لینے اسکول نہیں جاتا۔ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے جامع کارکردگی کا وائٹ پیپرنشرکیا جائے گا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی کل کارکردگی انڈے، مرغیاں اوربکریاں ہیں۔ ترجمان مسلم لیگ ن نے کہا کہ یہ بتا دیتے کہ ایک سال میں وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی میں کتنے بچوں کو داخلہ ملا۔

2018ء میں نوازشریف کا روشن پاکستان تھا۔ ن لیگ کے دورمیں ترقی کی شرح 8 فیصد تھی۔ عوام روٹی کی جگہ تبدیلی کھا رہی ہے۔ اب ملکی ترقی اس وقت3.3 فیصد ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک سال میں حکومتی اخراجات میں11بلین کا اضافہ ہوا۔ بیرون ملک کی سرمایہ کاری ایک سال میں آدھی ہوچکی ہے

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں