کشمیر کا مقدمہ لڑنے میں پیش پیش ملیحہ لودھی کے بیٹے کی شادی کس ملک کے کس خاندان میں ہوئی ہے ؟ تفصیلات آپ کے ہوش اڑا دیںگی

لاہور (ویب ڈیسک) یہ قوم ہے یا ہجوم ہے جو بے سمت سفر کئے جا رہا ہے ، باجے بجائے جا رہا ہے ، گاڑیوں سے سر باہر نکلے ہوئے ہیں، موٹرسائیکلوں پر ٹرپلنگ ہو ر ہی ہے ، مصروف راستوں کو روکا ہو ا ہے ، ڈیک پورے زور و شور سے بج رہے ہیں

نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اوریوں وہ یوم آزادی منایا جا رہا ہے جسے یوم یکجہتی کشمیر کا نام بھی دیا گیا ہے ۔ ایک ایسی قوم کا یوم آزادی جسے ہر کام کرنے کی مادر پدر آزادی ہے ، آئین، قانون اور اخلاقیات کی حدوں سے باہر نکل جانے کی آزادی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اسے جوش و خروش اور جذبہ کہیں، آپ کے دل یوم آزادی پر موٹرسائیکلوں کے سائلنسر اتار کر ون ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کے لئے مامتا اور باپتا سے بھرے ہوئے ہوں مگر اس جوش اور جذبے کی سمت اور حاصل کیا ہیں، ہلڑ بازی کریں گے، ساری رات دوسروں کی نیند حرام کریں گے اور پھر بہت سارا ٹھونستے ہوئے لمبی تان کے سو جائیں گے۔یہ قوم ہے یا ہجوم ہے جسے اوپر سے لے کر نیچے تک اور نیچے سے لے کر اوپر تک کوئی فکر ہی نہیں ہے کہ کشمیریوں پر کیا قیامت ٹوٹ پڑیہے ۔ مودی سرکار کے لگائے کرفیوکو دو ہفتے ہونے کو آ رہے ہیں، گھروں میں خوراک اور ادویات کے بحران پیدا ہوچکے ہیں، بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں۔ عید کے موقعے پر چند گھنٹوں کے لئے کرفیو میں نرمی کی گئی جس نے زندگی کو کچھ ریلیف دیا مگرکشمیریوں کی زندگی بھارتی فوجیوں کے بھاری بوٹوں تلے دبی ہوئی ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا اپنے آئین میں موجود متنازع سٹیٹس تبدیل کر دیا ہے اور اب بھارتیوں کو عام اجازت ہو گی کہ

وہ مقبوضہ کشمیر میں جائیدادیں خرید سکیں گے، وہاں تجارت کر سکیں گے ۔ قابض بھارتی مسلسل فتح کا جشن منا رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے سیب ہی نہیں بلکہ کشمیری لڑکیاں بھی لائیں گے۔ ہمارے ہاں یہ تشریح بھی کی جا رہی ہے کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور34 اے محض کاغذ کے ٹکڑے تھے جسے میں سمجھنے سے قاصر ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے اپنے دولت مند شہریوں کو جائیدادوں، کاروباروں اور ملازمتوں کا حق دے کر کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی علاقے میں اقلیت اور غلام بنانے کی راہ ہموار کر لی ہے ، کشمیریوں کے معاملا ت کو فلسطینیوں کی طرح مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ یہ قو م ہے یا ہجوم ہے جس میں کوئی فکری ہم آہنگی ہی نہیں۔ ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ مودی نے کوئی ایکشن کیا تو وہ اینٹ کا جواب پتھرسے دیں گے گویا کم و بیش سقوط ڈھاکا جیسا ہی سقوط کشمیر ہو چکا اورہمیں گویا لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر باقاعدہ حملے کا انتظار ہے ، ہمارے وزیراعظم بھارت کی عدالتوں اور میڈیا کا نوحہ پڑھ رہے ہیں اور ہم فرط حیرت سے انگلیاں منہ میں دبائے ہوئے ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں کوئی ہمارے لئے پھول لئے نہیں کھڑا، قوم احمقوں کی جنت میں نہ رہے اور یہ کہ جنگ خود کشی ہوگی، میں سوچ رہا ہوں کہ اگر بھارتی وزیر خارجہ یہ بیان دیتا تو ہم اسے اپنی دہشت اور فتح قرار دے رہے ہوتے۔ ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن کہتے ہیں کہ وہ قاتل مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے مگر سب جانتے ہیں کہ

وہ توڑ دینے اور گھسیٹ دینے کے بیانات ایسے ہی دیتے ہیں اور پھر وضاحتیں دیتے پھرتے ہیں۔ اس قوم نے اگلی لڑائی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لڑنی ہے جس میں ابھی حال ہی میں ہم نے بھارت کو بغیر کسی مشاورتی عمل کے ممبر شپ دلوائی ہے اور اسی اقوام متحدہ میں’ ہجوم ‘کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی ہیں جن کے بیٹے کی شادی کی جو تصاویر عین پاکستان کے یوم آزادی اوربھارت کے یوم سیاہ پر سامنے آئی ہیں وہ بھارت کے ہندو خاندان سے رشتے داری کی ہیں یعنی جس نے آپ کا مقدمہ لڑنا ہے اس کی اسلام اور پاکستان سے وابستگی سب پر واضح ہو گئی ہے ۔یہ ہجوم جس وقت غریبوں کو رابطے اور سفر کی سہولتیں دینے والی’ سمجھوتہ ایکسپریس‘ اور’ دوستی بس‘ معطل کرنے کا اعلان کر رہا تھا عین اسی وقت بھارتی گلوکاروں کو ایک بااثر شخص کے گھر گانے کے لئے ویزے بھی جاری ہو رہے ہیں یعنی کشمیریوں سے محبت اوربھارت سے دشمنی محض غریبوں کی عیاشی ہے ، بے اختیاروں کی مصروفیت ہے ۔ یہ قو م ہے یا ہجوم ہے جس کے اندر سے یہ آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ بھارت نے پارلیمنٹ کے ذریعے دہشت گردی کی تو اس کا جواب بھی پارلیمنٹ کے ذریعے ہی دیا جائے اور پاکستان کے پاس موجود آزاد کشمیر کو ایک آئینی ترمیم کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بنا لیا جائے یعنی کشمیر کا قصہ بالکل ہی ختم کر دیا جائے، حق خود ارادیت کے لئے ستر برس سے زائد کی جدوجہد کوکچرے کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے، یہ کہہ دیا جائے کہ برہان وانی سمیت ہزاروں اور لاکھوں کشمیریوں نے جو قربانیاں دی ہیں

جو غلط فہمی کا نتیجہ تھیں۔ کیا یہ مانا جاسکتا ہے کہ جس کا جہاں قبضہ ہے وہ درست ہے اور اگر اسے مان لیا جائے تو پھر آئین، قانون، آزادی اور حق خود ارادیت سمیت تمام اصولوں کو بھی بالائے طاق رکھ دینا ہو گا ، ہم عملی طور پر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول مان چکے ہیں اور پھر نظریاتی طور پر بھی ماننا ہو گا کہ بندوق ہی سب سے بڑی طاقت ہے اور اس کا حق اور سچ سب سے بڑا ہے جس کے بعد سب سے بڑی بندوق ہے ۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے شہری بھی کشمیر کے تنازعے کے اصل پہلووں سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ بھارت کی طرف سے کی گئی آئینی ترامیم کشمیریوں کے لئے کس بڑے پیمانے پر تباہی لائیں گی۔یہ قوم ہے یا ہجوم ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جس جماعت کے پاس کشمیر کی بھی ٹھیکیداری تھی وہ اس وقت تو لاہور کی سڑکوں پر طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے تھی جب بھارت کا اسی انتہا پسند پارٹی کا وزیراعظم واجپائی لاہور کے مینار پاکستان پر آ کر نظریہ پاکستان پر مہر لگا رہا تھا اور مسئلہ کشمیر کو شملہ معاہدے کے تحت حل کرنے کے عہد کا اعادہ کر رہا تھا مگر جب سقوط کشمیر ہو رہا ہے تو وہ جماعت گونگلووں سے مٹی بھی نہیں جھاڑ رہی کیونکہ اس کے ’امیر ‘کو سرکاری کمیٹی کی رکنیت مل گئی ہے اور یوں وہ جماعت عاصمہ جہانگیر مرحومہ کے مطابق ایک مرتبہ پھر تاریخ کی غلط سمت میں جا کے کھڑی ہوگئی ہے ۔ یہ ہجوم اس وقت سڑکوں پر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگا رہا ہے جب عملی طور پر نریندر مودی اوراس کی جماعت نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں بدل دیا ہے ۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ اب جو کچھ کرنا ہے وہ کشمیریوں نے خود ہی کرنا ہے ۔ سید علی گیلانی اپنی ویڈیو میں جس دروازے کے پیچھے کھڑے آوازیں لگا رہے ہیں ا س دروازے کے باہر شور تو مچایا جا رہا ہے ، باجے بھی بجائے جا رہے ہیں، گاڑیوں اورموٹرسائیکلوں پر پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں مگریہ تو ہجوم کا شغل میلہ ہے ، ابھی ناچیں گائیں گے، نعرے لگائیں گے اور پھر تھک کر سوجائیں گے۔آئیے دعا کریں کہ کوئی معجزہ برپا ہوجائے، یہ ہجوم قوم میں بدل جائے مگر قوموں پر کچھ برس اور عشرے ایسے بھی آتے ہیں کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں، آسمان سے فقط آزمائشیں نازل ہوتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا توزوال، تباہی اوربربادی کی یہ صورت ہرگز نہ ہوتی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں