قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے سول پروسیجر کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کرلیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سول کیسز کے خاتمے کے دورانیے کو کافی حد تک کم کرنے کے لیے سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) میں ترمیم کا بل منظور کرلیا۔

کمیٹی اراکین کو بل کی تفیصیلاتے بتاتے ہوئے وزیر قانون نے کہ اس وقت ایک سول کیس کی اوسطاً مدت 30 سے 40 سال ہے جس پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذکورہ ترمیم سے یہ مدت کم ہو کر چند سال رہ جائے گی۔

مجوزہ تجویز کی وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دوبارہ مقدمہ بازی کو ختم کر کے پہلے فیصلے کو ہی حتمی حکم سمجھنے کی تجویز بھی دی ہے۔

وزیر قانون نے بتایا کہ کیس کے پہلے مرحلے میں 2 سول جج یبک وقت کارروائی کریں گے جس میں ایک حکم امتناع کے معاملے جبکہ دوسرے جج سماعت کی کارروائی دیکھیں گے تا کہ امتناع کی صورت میں تاخیر سے بچا جائے اور اگر کیس کا فیصلہ ہوجائے تو امتناع خود بخود ختم ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سول جج کے حکم کے خلاف ڈسٹرک اور سیشن جج کی سماعت کے بجائے ہائی کورٹ کے یک رکنی بینچ میں اپیل کی جاسکے گی اور انٹر کورٹ اپیل کے بجائے مدعی معاملے کے حتمی فیصلے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرسکے گا۔

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور عالیہ کامران نے اس ترمیمی بل کی مخالفت میں نوٹ جمع کروایا۔

بعدازاں وزارت قانون کی درخواست پر قائمہ کمیٹی نے مسلم فیملی لاز ترمیمی بل 2019 دفعہ 4 (حکومتی بل) اور مسلم فیملی لاز ترمیمی بل 2019 دفعہ 7 (حکومتی بل) آئندہ اجلاس تک لیے ملتوی کردیا۔

دوسری جانب کمیٹی نے ڈاکٹر رامیشن کمار کے پیش کیے گئے کم عمری میں شادی کی روک تھام کے بل برائے 2019 پر بھی تفصیلی غور و خوص کیا اور اکثریت اراکین کے ووٹ کی بنیاد پر قومی اسمبلی سے اسے منظور نہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں