پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل

پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا پیسفک گروپ برائے انسداد منی لانڈرنگ کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں ایف اے ٹی ایف نے تیسری ایلیو ایشن رپورٹ کی منظوری دیدی ہے تاہم انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے پاکستان توسیعی مدت تک بدستور گرے لسٹ میں رہے گا۔
ایف اے ٹی ایف اکتوبر میں پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکلنے کے لیے نیا ایکشن پلان دے گا، آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں پاکستان کی باہمی جانچ کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا جس میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے ضمن میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور اسے منظور کر لیاگیا تاہم پاکستان کوگرے لسٹ سے نکلنے کیلیے ایف اے ٹی ایف کے نئے 150 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنا ہو گا۔
پاکستان کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی سربراہی میں وزارت خزانہ کی اعلیٰ سطح کا وفد اس اجلاس میں شریک ہوا۔پاکستانی وفد نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلیے سزائیں سخت کر دی ہیں، ملک کے اندر بھی 10 ہزار ڈالر لیکر گھومنے پر پابندی عائد کر دی ہے، وفد نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے قانون سازی بہتر بنانے سے آگاہ کیا۔
وفد نے بریفنگ میں کہاکہ انعامی بانڈز کی مالیت کے لیے بھی ایف اے ٹی ایف کے اہداف حاصل کرلیے، بے نامی انعامی بانڈز کے خاتمے کا طریقہ کار طے کرنے کا ہدف بھی پورا کرلیا گیا، ہدف کے تحت 40 ہزار کے بانڈ کی ملکیت اور منسوخی کا ہدف بھی حاصل کرلیا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی عالمی سطح کی 40 نکاتی سفارشات میں 24 سفارشات کی روشنی میں پاکستان کی کاکردگی تسلی بخش نہیں رہی جبکہ 11 سفارشات کی روشنی میں پاکستان کی کارکردگی مطلوبہ معیار سے نیچے رہی۔ ایف اے ٹی ایف سے جڑی پیش رفت کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو غیر مالیاتی شعبہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملی اقدامات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
مذاکرات میں اے پی جی نے انسداد منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کے کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچانے اور سزائیں دینے پر زوردیا ہے ، مذاکرات میں جن پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے ان پرعملدرآمد کے تناظر میں5 ستمبر کو جائزہ لینے پر اتفاق ہوا ہے اور اس کیلئے پانچ ستمبر کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کے ساتھ مذاکرات ہونگے جس کیلئے پاکستانی ٹیم کی قیادت سیکرٹری خزانہ کریں گے جبکہ ابھی آسٹریلیاء میں ایشیاء پیسفنگ گروپ برائے انسداد منی لانڈرنگ کے ساتھ جاری مذاکرات 23 اگست کو ختم ہونگے اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کل(جمعہ)شام واپس آئیں گے جبکہ باقی ٹیم اتوار کو واپس آئے گی، مذاکرات میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے بائیس اہداف پر بریفنگ دی۔
پاکستانی حکام نے بتایا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو جرمانہ 50 لاکھ اور سزا کو 10 سال تک بڑھا دیا گیا ہے، ملزمان کی جائیداد 90 کی بجائے 180 دن قبضے میں رکھی جائے گی، اے پی جی کو مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے دنیا کے سخت ترین قوانین پر عمل درآمد کرتے ہوئے 10 ہزار ڈالر سے زائد رقم لے کر گھومنے پر پابندی عائد کر دی ہے، اس کے لئے اسٹیٹ بینک کی اجازت لازمی ہوگی۔ انعامی بانڈز کی مالیت کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے اہداف بھی حاصل کر لئے گئے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں