پاک بھارت کشیدگی۔۔۔ جنگ کی تیاریاں عروج پر جا پہنچیں جنگ کی صورت میں پاکستان کتنے دنوں تک اپنی غذائی ضروریات پوری کرسکتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک) : پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ صورتحال اور بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کی صورت میں جنگ چھڑنے کے خدشے کے پیش نظت عوام کے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی ہدایت پر پنجاب محکمہ داخلہ نے فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے گندم کے ذخائر کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔ پنجاب حکومت کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 48 لاکھ ٹن گندم کے سرکاری ذخائر موجود ہیں جو 278 دن تک پنجاب کی شہری آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔

محکمہ خوراک نے لاہور اور راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع سے 7 لاکھ ٹن سے زائد گندم کو راولپنڈی ڈویژن منتقل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 17 اگست کو محکمہ داخلہ پنجاب کے ایڈشنل سیکرٹری ڈیفنس پلاننگ کی جانب سے محکمہ خوراک پنجاب کو ایک خط ارسال کیا گیا جس میں دریافت کیا گیا کہ اس وقت سرحد پر پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہےاور اگر صورتحال مزید سنگین ہوتی ہے تو پنجاب کے غذائی تحفظ کے لیے سرکاری گند کے ذخائر کی کیا صورتحال ہے بالخصوص بھارتی سرحد سے منسلک لاہور ڈویژن ، گوجرانوالہ ڈویژن اور بہاولپور ڈویژن میں گندم کی اسٹوریج کی کیا پوزیشن ہے؟ اس حوالے سے محکمہ خوراک پنجاب نے محکمہ داخلہ کو بھیجے گئے جوابی مراسلہ میں آگاہ کیا کہ سرحد پر پاک بھارت کشیدگی میں اضافے کی صورت میں پنجاب میں فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اطمینان بخش اسٹاک موجود ہے اور کسی قسم کے غذائی بحران کا کوئی امکان نہیں ہے۔

محکمہ خوراک کے پاس 47 لاکھ 95 ہزار ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں جو کہ پنجاب کی شہری آبادی کی غذائی ضروریات آئندہ 278 دنوں کے لیے پوری کر سکتے ہیں۔ محکمہ خوراک نے جنوبی پنجاب کے اضلاع میں موجود سرپلس سرکاری گندم کے اسٹاکس بھی منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے گندم کی ٹراسپورٹیشن کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں