’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری فیملی سے یہ بات کرنے کی ۔۔۔۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پرسنل اسسٹنٹ کو کیوں فارغ کر دیا؟ اندر کی خبر ٓ گئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ٹرمپ کی فیملی میٹنگ کی تفصیلات لیک کرنے پر ان کی پرسنل اسسٹنٹ کو عہدے سے ہٹادیا گیا . غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کی پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) میڈلین ویسٹر ہاؤٹ امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کے ساتھ کام کررہی تھیں تاہم امریکی صدر کی آف دی ریکارڈ فیملی میٹنگ کی تفصیلات میڈیا نمائندوں کو بتانے پر ان سے استعفیٰ لے لیا گیا .

میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیا نمائندوں نے وائٹ ہاؤس کے عملے سے ٹرمپ کے فیملی کے ساتھ عشایئے کی تفصیلات پر بات چیت کی جس کے بعد صدر کی پی اے کو عہدے سے ہٹایا گیا.وائٹ ہاؤس کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا تھا امریکی صدر اپنی پرنسل اسسٹنٹ کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے جب کہ ان کا دفتر بھی اوول آفس کے بالکل سامنے تھا البتہ امریکی صدر کی ذاتی معلومات سے متعلق بات چیت ریڈ لائن تصور کی جاتی ہے.ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل میڈلین نے چیف آف اسٹاف ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں. جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کے ذریعے انٹیلی جنس چیف کی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلی جنس کے موجودہ سربراہ ڈین کوٹس آئندہ ماہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے.صدر ٹرمپ نے ٹیکساس سے کانگریس کے رکن جان ریٹکلف کو نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا اعلان کیا.عہدے سے سبکدوش ہونے والے نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر ڈین کوٹس سی آئی اے اور این ایس اے سمیت امریکا کی 17 انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نگران تھے.برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ اور انٹیلی جنس چیف کے درمیان روس اور شمالی کوریا کے معاملے پر اختلافات تھے جب کہ ڈین کوٹس کے دور میں ان کی کارروائیوں کو امریکی صدر کی جانب سے مسلسل متضاد قرار دیا گیا اور صدر ٹرمپ انٹیلی جنسی ایجنسیوں پر تنقید کرتے رہے.انٹیلی جنس چیف ڈین کوٹس نے اپنا استعفیٰ صدر ٹرمپ کو بجھوادیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں امریکی انٹیلی جنس پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی.واضح رہےکہ ڈین کوٹس سے قبل امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن بھی ٹرمپ سے اختلافات کے بعد اپنے عہدے چھور چکے ہیں.وہ شخصیات جنہیں ٹرمپ انتظامیہ سے نکالا گیا یا انہوں نے استعفیٰ دیا

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں