مقبوضہ کشمیرمیں جنم لے رہی سول نافرمانی کی تحریک؟

مقبوضہ کشمیرمیں سول نافرمانی کی تحریک جنم لے رہی ہے،لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کر رہے ہیں،جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پرآرہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کررہے ہیں جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پرآرہی ہے۔

مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ مقبوضہ وادی پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی لائی جائے تاہم کسی ممتاز رہنما کو رہا نہیں کیا گیا، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی تاحال معطل ہیں۔طلبہ کی اکثریت کلاسز کا بائیکاٹ کررہی ہے۔

دکاندار دکانیں کھولنے سےگریزاں ہیں۔جبکہ نجی اور سرکاری ملازمین کی اکثریت ابھی تک کام پر واپس نہیں آئی۔ سرکاری ملازمین نے اسے مرکزی حکومت کیخلاف غیررسمی احتجاج قرار دیا۔ دکانداروں اورشہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت خطرے میں ہےجس کا تحفظ ان کیلئے اولین ترجیح ہے۔

سکیورٹی فورسز صورتحال کا نوٹس لے رہی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ سرینگر کےاسکولوں اور اہم سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابرہے۔سرینگر کے ایک مکین نے بتایا کہ وہ کیسے بچوں کو سکول بھیجیں انہیں بچوں کے تحفظ کی فکر رہتی ہے۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک مہم شروع کی ہے جس میں بھارتی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں ذرائع ابلاغ کا بلیک آؤٹ ختم کیا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ نے کہا ذرائع ابلاغ کے بلیک آؤٹ نے کشمیریوں کی روزمرہ کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں