پاک فوج سے لڑائی۔۔۔مولانافضل الرحمن اسلام آباددھرنے میں کیسے اپنے کارکنان کو فوج سے لڑنے کیلئے تیار کررہے ہیں؟

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) : معروف صحافی صدیق جان کا مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فضل الرحمن، عمران خان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔صدیق جان نے مزید کہا کہ اداروں کو سوچنا چاہئیے کہ مولانا فضل الرحمن کیا کر رہے ہیں،وہ اپنے کارکنان کو فوج کے خلاف تیار کر رہے ہیں۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن جانتے ہیں کہ جب وہ اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو اہم تنصیبات، اہم اداروں اور اہم مقامات کی سیکیورٹی فوج کے پاس ہو گی۔اس لیے مولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کو ذہنی طور پر تیار کر کے لا رہے ہیں کہ اگر فوج ڈیوٹی پر ہو تو یہ پاک فوج کے جوانوں سے بھی لڑ جائیں۔
اور ان جوانوں پر بھی حملہ آور ہوں اور یہ انتہائی خطرناک چیز ہے۔

مولانا فضل الرحمن ان کارکنان کی برین وانشگ کر رہے ہیں۔اگر وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے اور ان کے کارکنان اور پاک فوج کے جوانوں کے مابین کچھ ہو جاتے تو پاک فوج کے پاس کیا آپشن رہ جائے گا کیا وہ اپنے لوگوں پر گولیاں چلائیں گے؟۔صدیق جان نے مزید کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ جب سے مولانا فضل الرحمن سیاست میں آئے ہیں تو انہیں بہت پروٹوکول اور سہولیات ملیں،کشمیر کمیٹی کے نام پر انہوں نے دس سال کروڑوں روپے کھائے۔

مولانا فضل الرحمن ایک مچھلی کی طرح ہیں جیسے اس کا انحصار پانی پر ہوتا ہے اسی طرح مولانا کا انحصار سرکاری گاڑی ،سرکاری ڈیزل اور سرکاری گھر پر ہوتا ہے۔اس صورتحال میں حکومت کے پاس ایک آپشن ہے کہ وہ کہیں سے ایک ایم این سے استعفیٰ لے کر وہاں مولانا صاحب کو لے آئیں۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کے اسمبلی میں آنے سے دین بھی بچ جائے گا اور باقی سب کچھ بھی بچ جائے گا۔صدیق جان نے مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے:

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں