غریب کسان کا بیٹا بھارت کے اسپیس ریسرچ سنٹر کا ہیڈ کیسے بنا ISROچیف کی ایسی داستان جو مذاق اُڑانے والوں کی آنکھیں کھول دے

نئی دہلی (ویب ڈیسک) : بھارت کے چندریان ٹو مشن کی ناکامی پر پاکستان کے وزرا اور سینیٹرز سمیت کئی رہنماؤں نے پاکستان کا مذاق اُڑایا لیکن اگر دیکھا جائے تو بھارت کو زیر کرنے کے لیے ہمیں اس کا مذاق اُڑانے کی بجائے اس سے آگے نہیں تو کم از کم اس کے برابر ہی آنا چاہئیے۔ بھارت نے جس کام کی کوشش کی ہم اُس مشن کے ابھی آس پاس بھی نہیں ہیں۔

بھارت کی اسپیس ریسرج کے ہیڈ کے سون کی کہانی بھارت سمیت پاکستان کے لیے بھی سبق آموز ہے۔ کے سون ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے اور بی ایس سی کرنے تک پاؤں میں چپلیں بھی میسر نہیں تھیں۔ کے سون کے والد نے اپنے بیٹے سے کہہ رکھا تھا کہ میں تمہیں تین وقت کا کھانا کھلاؤں گا باقی سب تم نے خود کرنا ہے ۔ لوکل تامل زبان میں پڑھائی کر کے مدراس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ماسٹر اور پھر ممبئی سے راکٹ سائنس میں ڈاکٹریٹ کرنے والے کے سون کے کریڈٹ پر 104 سٹیلائٹ فضا میں بھیجنے کا انٹرنیشنل ریکارڈ ہے ، یہی وجہ ہے کہ چندریان ٹو کی ناکامی پر پورے بھارت کے حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے ان کو حوصلہ دیا بلکہ مودی نے پانچ منٹ تک گلے لگا کر صرف یہ کہا کہ سائنس تو ہے ہی تجربات کا نام۔

کے سون کے حوالے سے ایک اور بات بڑی حیران کُن ہے کہ اتنے بڑے ادارے کے چیف کی تنخواہ محض ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے جب کہ پاکستان میں صرف ایک ڈاکٹر جس کا تعلق ادارہ قومی امراض قلب کراچی سے ہے اس کی تنخواہ ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اب جو لوگ بھارت کے اس مشن پر تکلیف ہو رہی ہے اُن کو سوچنا چاہئیے کہ پاکستان کی معیشت کو آپ کے سول بیوروکریسی کے لوگ دیمک کی طرح کھا رہے ہیں ، ہمارے ملک میں پڑھا لکھا صرف ہارورڈ ایم آئی ٹی یا آکسفورڈ والا ہی کہلاتا ہے۔

ہمیں سوچنا چاہئیے کہ بھارت سے ہم لاکھ اختلافات کریں ، لیکن ایک بات جو ہم سب کو بالخصوص وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو سوچنی چاہئیے ، وہ یہ ہے کہ بھارت نے کم از کم چاند پر جانے کی کوشش تو کی ، ہم تو اِس کوشش کے آس پاس بھی کہیں نہیں ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ بھارت نے ایک کوشش کر لی ہے ، اب وہ آج نہیں تو کل اپنی اس ناکامی کوکامیابی میں بدل ہی لے گا لیکن تب ہم کیا کریں گے ؟ جو لوگ آج بھارت پر تنقید کر رہے ہیں، کل کو اُن کا تھوکا اُنہی کے منہ پر بھی آ کر گر سکتا ہے۔ ایسے میں بھارت کو تنقیدوں سے زیر کرنے کی بجائے ہمیں عملی اقدام کرنا چاہئیے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں