امریکا افغانستان سے جاتے جاتے ایسا کیا کرنے والا ہے جو پاکستان کیلئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوگا؟ خوفناک سازش کا پردہ چاک کر دیا گیا

لاہور (ویب‌ڈیسک) سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب نے کہا ہے کہ افغان طالبان مذاکرات کی منسوخی امریکی بدنیتی پرمبنی ہے، امریکا افغان طالبان میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہی نہیں تھا، امریکا جاتے ہوئے بلیک واٹر کو پیچھے چھوڑ کر جا رہا تھا، روس اور چین کیلئے بھی وہاں کچھ خراب صورتحال چھوڑ ی جارہی تھی، پاکستان علاقائی ممالک سے ملکر صورتحال کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اورافغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں جنگ بندی کبھی بھی نہیں ہوئی،مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے بھی ایک ہزار افغان طالبان کو مارا، جبکہ طالبان کی جانب سے بھی فورسز پر حملے جاری رہے، اس کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری تھا۔
طالبان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات سے پہلے کبھی بھی یہ معاہدہ نہیں ہوا کہ مذاکرات کیلئے جنگ بندی کی جائے گی۔

جب امریکی فورسز حملے کرتی ہیں تو کیا مذاکرات یا امن عمل کی خلاف ورزی نہیں؟ طالبان کا کہنا ہے کہ امریکا جاتے ہوئے بلیک واٹر کو پیچھے چھوڑ کر جا رہا تھا۔ روس اور چین کیلئے بھی وہاں کچھ خراب صورتحال چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان خطے کے ممالک سے ملکر صورتحال کوٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا ، کیونکہ اس میں روس اور چین دونوں کے مفادات ہیں۔
اس موقع پر تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ امریکا کو افواج کا انخلا کرنا ہے، امریکا کی کور پالیسی ہے اس میں وہ پاکستان کو فوری طور پر سائیڈ لائن نہیں کریں گے۔ کیونکہ ابھی ان کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی شرکت کے بغیر یہ امن مذاکرات آگے بڑھ ہی نہیں سکتے، یہ بات تمام فریقین کو معلوم ہے۔ اسی طرح افغانستان کی حکومت بھی اس مسئلے کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، کیونکہ موجودہ افغان حکومت وہاں اقتدار کو انجوائے کررہی ہے۔لیکن اب مذاکرات ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ پیچھے مڑنا مشکل ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں