”نوازشریف قانون کی گرفت میں نہیں بلکہ اغواءبرائے تاوان والوں کے پاس ہیں“

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ڈیل نہیں کریں گے،عدالتوں سے انصاف چاہتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ہم 12ارب ڈالر دے کرجا رہے ہیں، جو وزراء یہ باتیں کرتے ہیں ان کو شاید پتا نہیں کہ 12بلین ڈالر ہوتے کتنے ہیں؟ ان خبروں سے ایسے لگتا ہے کہ نوازشریف قانون کی گرفت میں نہیں بلکہ اغواء برائے تاوان والوں کے پاس ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا سے گلہ تھا کہ دنیا کی ریاستیں کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور مصلحت پسندی کا شکار ہوجاتی ہیں۔دنیا کے سماج نے کشمیر کے المیے کو دیکھا بھی ہے اور سمجھا بھی ہے اور احتجاج بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے پاس بڑا اچھا موقع ہے کہ مسئلہ کشمیربین الاقوامی سطح پر اجاگر ہورہا ہے اور دنیا کے سماج میں کشمیر کے بارے جو شعور اجاگر ہوا ہے اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے ۔

جو بین الاقوامی تنظیمیں سماج کی نمائندگی کرتی ہیں ان سے روابط کو تیز کرنا چاہیے۔یہی سبب بنے گا کہ جو ریاستوں کو کشمیر میں ظلم وناانصافی کیخلاف آواز بلند کرنے کیلئے مجبور کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم پیسے دینے کیلئے تیار ہیں، ہم 12ارب ڈالر دے کرجارہے ہیں،جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کو شاید یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ 12بلین ڈالر ہوتے کتنے ہیں؟ وہ پاکستان کی کل معیشت سے بھی زیادہ رقم کے حوالے دینا شروع کردیتے ہیں۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نوازشریف قانون کی گرفت ہیں؟لیکن جو وزراء کی جانب سے خبریں دی جاتی ہیں ان سے لگتا ہے کہ نوازشریف قانون کی گرفت میں نہیں بلکہ اغواء برائے تاوان والوں کے پاس ہیں۔ اغواء برائے تاوان والے ان کو اغواء کرکے لے جاچکے ہیں اور ان کی رہائی کیلئے پیسوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ن لیگ کا ہمیشہ مئوقف رہا ہے کہ ہم ڈیل کے ذریعے رہائی نہیں چاہتے بلکہ عدالت سے انصاف چاہتے ہیں۔

لیکن عدالتوں پر ہمیں تحفظات اور شکایات ہیں، کہ ایک ہی طرح کے مقدمے میں دومعیارات بنا دیے گئے، بنی گالہ کے مقدمے میں سہولتیں دی گئیں ، اس طرح نوازشریف کی منی ٹرائل کو نہیں دیکھا گیا، بنی گالہ حال کا واقعہ ہے جبکہ نوازشریف سے ان کی پیدائش سے پہلے کے معاملات کا بھی حساب لیا گیا ۔ہم عدالتوں سے انصاف چاہیں گے خواہ ہمیں انصاف میں دیر لگ جائے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں