پاکستان کا دباو کام کر گیا، امریکا نے کالعدم تحریک طالبان کے امیر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان کا دباو کام کر گیا، امریکا نے کالعدم تحریک طالبان کے امیر کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا، تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا، گزشتہ کئی برسوں کے دوران کالعدم تحریک طالبان کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے مختلف دہشت گرد تنظیموں اور ان کے مددگاروں پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے جن میں کالعدم تحریک طالبان بھی شامل ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان بھر میں متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو شہید اور زخمی کیا۔ اس حوالے سے امریکی وزیر خزانہ سٹیو منوچن نے اپنے بیان میں کہا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد سے امریکی حکومت نے اپنی انسداد دہشت گردی سے متعلق کوششوں کو مستقلاً ابھرتے ہوئے خطرات پر مرکوز کر دیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کے ایکزیکٹو آرڈر میں ہمارے اختیارات کو تقویت فراہم کی جس سے ہم دہشت گرد گروپس کے مالیات اور ان کے لیڈروں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔

جن افراد پر پابندیاں لگی ہیں ان میں ترکی میں مقیم حماس کے مالی امور کے سربراہ ظاہر جبرین اور قدس فورس کے چیف سعید آزادی شامل ہیں۔ان کے علاوہ برازیل میں مقیم القاعدہ کا رکن اور ملاوی کا باشندہ بھی شامل ہے جو داعش کی افغانستان میں شاخ کے لیے بھرتیاں کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فلپائن میں مقیم داعش سے منسلک ایک کارندہ بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔افراد کے ساتھ ساتھ کئی ایکس چینج ہاؤسز اور جنوبی ترکی میں ایک جیولری کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکا میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں اور امریکیوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں