”وزیر اعظم کٹھ پتلی نہیں ہیں“ وہ ایک کام جو شدید دباؤکے باوجود عمران خان نے نہیں کیا،سینئر صحافی حامد میر کا حیران کن انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) سینئیر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ مقتدر حلقوں نے بھی وزیراعظم عمران خان سے کہاتھا کہ عثمان بزدار کو ہٹادیں لیکن انہوں نے ان کی بھی نہیں سنی۔ حامد میر نے بتایا ہے کہ اسدعمر کو وزارت خزانہ سے ہٹانے کے بعد عمران خان کے سامنے عثمان بزدار کو ہٹانے کی تجویز رکھی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا جس سے پتا چلتا ہے کہ عمران خان کٹھ پتلی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹانے سے صاف انکار کردیا جس سے مجھے پتہ چلا کہ عمران خان کو جو کٹھ پتلی کہا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ پنجاب میں ایک مسئلہ ہے کہ تحریک انصاف میں پنجاب میں بہت سے گروپ ہیں ، اگر عمران خان کسی ایک گروپ کا وزیر اعلیٰ لاتے ہیں تو دوسرا گروپ ناراض ہوجائیگا ۔
انہوں نے کہا کہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ پرویز الہٰی بھی عثمان بزدار کے پیچھے کھڑے ہیں ۔ عثمان بزدار کی نہ ہٹانے کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کو گروپنگ سے بچانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سینئیر صحافی شاہ زیب خانزادہ نے بھی کہا ہے کہ پنجاب حکومت ہی تحریک انصاف کی حکومت کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے معاملے پر تحریک انصاف کے اندر بھی بے چینی ہے، پنجاب میں ایک سال میں تین آئی جیز تبدیل ہوئے اور سب کو ہی سیاسی بنیادوں پر ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے تین کمیٹیاں بنائی ہیں لیکن ابھی تک اصلاحات سامنے آئی ہیں، صاف نظر آرہا ہے کہ عثمان بزدار کی نہیں چلتی لیکن عمران خان پھر بھی عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان شہباز گل نے پی ٹی آئی میں موجود وزیر اعلیٰ کے مخالفین کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہ عثمان بزدار کو وزیراعظم نے 5 سال کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب بنایا ہے، اگر کسی کو عثمان بزدار کی شکل اچھی نہیں لگتی تو میں کچھ نہیں کر سکتا، وہ پارٹی چھوڑ دے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں