بھارتی آرمی چیف اوقات سے باہر پاکستان سے آزاد کشمیر حاصل کرنے کی دھمکی دیدی

نئی دہلی (ویب ڈیسک) : پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات ہونے کا امکان اب معدوم ہو گیا ہے جس کی وجہ بھارت کی جانب سے مسلسل ہٹ دھرمی کے مظاہرے اور مذاکرات کے معاملے پر بھارت کی غیر سنجیدگی کو قرار دیا گیا ۔ پاک بھارت مذاکرات کے معاملے پر بھارتی حکمرانوں اور بھارتی افواج کے سربراہان کے زہر اُگلتے بیانات نے بھی منفی کردار ادا کیا۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی جس پر پاکستان نے خوب احتجاج کیا لیکن بھارت نے اس معاملے پر تحمل اور سمجھداری سے کام لینے کی بجائے آزاد کشمیر پر اپنی گندی نظر ڈالی جس پر بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی بیان دیا کہ پاکستان سے مذاکرات مقبوضہ پرنہیں آزاد کشمیر پرہوسکتے ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ کے اس بیان سے پیدا ہونے والے کشیدہ صورتحال میں کمی لانے کی بجائے اب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی ایسی ہی ایک بڑھک مار دی ہے جس پر بھارتی میڈیا خوب بڑھ چڑھ کر کوریج کر رہا ہے۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے اپنے بیان میں کہاکہ آزاد کشمیر پر صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے ورنہ آرمی کو تیار ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنرل بپن راوت نے یہ بیان دے کر پاکستان کو ایک پیغام بھجوادیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود آزاد کشمیر پر بھارتی حکومت کو فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، بھارتی حکومت جب بھی فیصلہ کرے گی فوج تیار ہے۔

پاکستان کے دفاعی تجزیہ کار نے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو محض ایک بڑھک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن کے پائلٹ یہاں پاک فوج کی حراست میں رہ کر گئے ہیں اُن کے منہ سے ایسے بیانات زیب نہیں دیتے۔ انہیں چاہئیے کہ اس طرح کے بیانات دینے سے قبل اپنے ائیر چیف سے بات کر لینی چاہئیے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ پاک فوج سے ٹکر لینے پر انہیں لینے کے دینے پڑ جائیں۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارتی فوج کو ماضی میں ہوئے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں