مسئلہ کشمیرحل نہ ہوا تو علاقائی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے: صدر مملکت

صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیرحل نہ ہواتو یہ علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ اقدامات سے بین الاقوامی معاہدوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ تصفیہ طلب علاقہ ہے، بھارت جموں و کشمیر میں تمام پابندیوں کا خاتمہ کرے اور اقوام متحدہ کشمیری میں اپنےآزاد مبصربھجوائے، اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا توعلاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی سے اس وقت کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے، وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے، غاصب بھارتی افواج غیرقانونی گرفتاریاں اورکشمیری خواتین کی عصمت پامال کر رہی ہے، بھارت کی جنونی کارروائیوں سے 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی برداشت نہیں کی جائے گی۔

عارف علوی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کارروائیوں کاسرپرست رہا ہے، سنگین جرائم کی پاداش میں کلبھوشن کو موت کی سزا سنائی تھی، پلوامہ واقعے پر بھارت سے ثبوت مانگنے پر کوئی جواب نہیں ملا، بھارت پلوامہ حملے کو آڑ بناکر دراندازی کی کوشش کی، لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مارگرایا اور ایک پائلٹ بھی گرفتارکرلیا گیا، لیکن وزیراعظم نے خیرسگالی کے طور پر گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا، بھارت نے ہمارے اس رویئے کو ہماری کمزوری سمجھا، ہماری امن کا خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران (ن) لیگی ارکان ایوان میں شاہد خاقان عباسی،سعد رفیق اور رانا ثنااللہ کی تصاویر لے آئے، اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی لیکن اس کے باوجود صدر مملکت نے اپنا خطاب جاری رکھا۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر کا خطاب سننے کے لیے ہیڈ فون لگا لیے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں