قصور : رہبر بنے رہزن ۔رنگیلے پروفیسر ظہیر خان کے کارنامے پروفیسر کی واٹس ایپ پر طالبات کے ساتھ غیر اخلاقی چیٹنگ، منظر عام پر

لاہور(رپورٹ:اسد مرزا)پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ تعلیم کے نام پر طالبات سے غیر اخلاقی اور ذومعنی گفتگو کر کے انکی رہنمائی کی بجائے راہزنی کرتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ قصور کی تحصیل پتوکی میں پیش آیا جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج پتوکی میں ایم ایڈ اور ایم اے ایجوکیشن کی ورکشاپ کے دوران پروفیسر ظہیر خان نے طالبات کے موبائل نمبر ایڈ کر کے واٹس ایپ گروپ بنا لیا جبکہ کئی طالبات نے اپنے بھائیوں اور شوہروں کے نمبر ایڈ کروائے ۔بتایا گیا ہے کہ پروفیسر ظہیر خان نے کمال چالاکی سے طالبات کے بھائیوں اور شوہروں کو گروپ سے نکال کر صرف طالبات سے چیٹ شروع کی ۔

بتایاگیا ہے کہ بعض طالبات پروفیسر کے غیر اخلاقی جملوں سے دلبرداشتہ ہو کر گروپ سے لیفٹ کر گئیں۔ بتایا گیاہے کہ واٹس ایپ گروپ چیٹ میں پروفیسر ظہیر خان تسلی کے لئے میسج کرتا ہے کہ سب باری باری اپنی تصاویر سینڈ کیوں نہیں کرتیں تا کہ پتہ چل جائے کہ سب لڑکیاں ہیں” میرے علاوہ کوئی لڑکا نہیں۔“ دوسرے میسج میں لڑکیاں تسلی دیتی ہیں کہ سب لڑکیاں ہیں۔سر شک کرتے ہیں کیونکہ بہت سی ڈی پی پر لڑکوں کی تصاویر ہیں ۔پروفیسر ظہیر خان ایک ڈانس کی بات پر طالبہ کو کہتے ہیں ”شرم آتی ہے “”جھلی ویڈیو اپ لوڈ کر دینا،، لائک ملے گے،، اور دولت پتی ہوجاﺅ گی ، طالبہ کہتی ہے ،،ایسی دولت سے غریبی اچھی ،، سر مجھے ڈانس نہیں آتا ،، میں نے مذاق کیا ،، پروفیسر ظہیر خان چیٹنگ کے دوران کہتا ہے ”میں لہنگا پہن لوں ،،میرا گھونگٹ کون اٹھائے گا“،،، اس کے علاوہ بھی پروفیسر نے طالبات کو میسج میں غیر اخلاقی میسج کئے جس کا آئندہ رپورٹ میں ذکر کیا جائیگا۔ اس حوالے سے پروفیسر ظہیر خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ورکشاپ میں شرکت کی تو واٹس ایپ گروپ بھی بنایا اس دوران اس نے بہت سے لڑکوں کو ریموو بھی کیا ۔ جب پروفیسر سے طالبات کے ساتھ غیر اخلاقی جملوں اور ڈانس کے حوالے سے سوال کیا تو گھبرا کر کہتے ہیں کہ آپکو میسج کاکیسے پتہ چل گیا؟ آپ پہلے میسج پڑھ لیں اس میں مزاق میں بات ہوئی ہے وہ بچے ہیں ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں