فرانس میں سعودی ولی عہد کی بہن حسہ بنت سلمان کو سزا

فرانس میں ایک مزدور کو محافظ کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنوانے والی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بہن کو 10 ماہ معطل قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2016 میں پیرس کے پوش علاقے ایونیو فوش میں واقع اپارٹمنٹ میں محمد بن سلمان کی بہن حسہ بنت سلمان نے ایک ملازم کو محافظ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنوایا تھا اور اس حوالے سے عدالتی کارروائی کا آغاز جولائی 2019 میں ہوا تھا۔

سعودی شہزادی کے خلاف دسمبر میں گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے جبکہ اب پیرس کی عدالت نے انہیں 10 ماہ کی معطل قید کے ساتھ 10 ہزار یورو جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

42 سالہ شہزادی عدالت میں کسی بھی سماعت کے دوران پیش نہیں ہوئیں اور انہیں پراسیکیوٹر کی جانب سے مطالبہ کی گئی سزاﺅں سے زیادہ سخت سزائیں سنائی گئی ہیں، پراسیکیوٹرز نے 6 ماہ معطل قید اور 5 ہزار یورو جرمانے کی سزاﺅں کا مطالبہ کیا تھا۔

حسہ بنت سلمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے محافظ رانی سیدی کو حکم دیا تھا کہ پلمبر اشرف عید کی پٹائی کی جائے کیونکہ وہ ان کے گھر کی تصاویر لے رہا تھا۔

سعودی شہزادی پر دانستہ تشدد، غیر قانونی طور پر قید اور چوری کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم وہ کسی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں بلکہ ان کا محافظ ہی عدالت میں پیش ہوا، جسے 8 ماہ کی معطل سزا اور 5 ہزار یورو جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔

سعودی شہزادی اور ان کے محافظ کے وکلا کا سزا سنائے جانے کے بعد کہنا تھا کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے کیونکہ یہ مقدمہ بے بنیاد شواہد پر مبنی تھا جبکہ اشرف کی سرگرمیاں بھی سوالیہ ہیں جس نے اس واقعے کے چند دنوں بعد ہی 21 ہزار یورو کا بل دیا تھا۔

حسہ بنت سلمان کے وکیل ایمانوئیل موئینی کے مطابق اشرف کے بیانات کا بڑا حصہ خیالی تھا اور اسے کبھی بھی اپارٹمنٹ میں زبردستی نہیں روکا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم حسہ بنت سلمان کی بے گناہی کو اپیلیٹ کورٹ میں ثابت کریں گے۔

محافظ کے وکیل یسین بوزرو نے فیصلے کو حیران کن قرار دیا اور عدالت پر الزام لگایا کہ اس نے اہم عناصر کو نظر انداز کیا جو ان کے موکل کو بے گناہ ثابت کرتے ہیں۔

اشرف کو سعودی شہزادی کے فلیٹ میں طلب کیا گیا تھا تاکہ وہ ایک واش بیسن کی مرمت کرسکے اور اس نے باتھ روم کی تصاویر لی تھیں جو اس نے تفتیش کے دوان اپنے کام کی ضرورت قرر دی تھیں۔

خیال رہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے اشرف کا اپنے بیان میں موقف تھا کہ ان کے ہاتھ باندھ کر شہزادی کے پاؤں کا بوسہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، جن کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے اور انہیں سعودی عرب کے سرکاری میڈیا میں اپنے فلاحی کاموں اور خواتین کے حقوق کی مہم میں سرگرم خاتون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ملازم نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں انہیں مارا پیٹا گیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران ان کے اوزار بھی قبضے میں لے لیے گئے تھے۔

فرانس میں ‘لی پوانٹ’ نیوز میگزین کو دیئے گئے بیان میں کاریگر نے کہا کہ شہزادی نے چیختے ہوئے کہا تھا ’اسے قتل کردو، اسے جینے کا کوئی حق نہیں‘۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں