’’انقرہ میں اہم بیٹھک نے ٹرمپ کی نیندیں اُڑا دیں‘‘ اردگان نے امریکہ کوسخت وارننگ دیدی

ترکی، ایران اور روس کا شام کی سالمیت قائم رکھنے پر اتفاق، تینوں صدور نے مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کردیا۔

انقرہ میں سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی اور روسی صدر پیوٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترک صدرطیب رجب اردگان نے کہا کہ دوہفتے تک امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر نہ پہنچے تو اپنے منصوبے پر عمل در آمد کریں گے ۔انہوں نے کہا شام میں سیف زون کے قیام سے 30لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل شروع ہوگا ، شام کی علاقائی سالمیت اوراتحاد پر تنیوں ملکوں کا اتفاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شام میں دہشتگردوں کا صفایا اور دہشتگردی کیخلاف کوششیں بڑھائیں گے ۔ترکی کا مقصد شام کے پناہ گزینوں کیلئے جنوبی شام میں راہداری بناناہے ۔

اس موقع پر ایرانی صدر کا کہناتھا کہ امریکہ نے جولان کی پہاڑیوں کا علاقہ اسرائیل کے حوالے کردیاہے، تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ ہے کہ ایک ملک نے دوسرے ملک کا علاقہ تیسرے فرد کے حوالے کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پچھلے سال شام سے انخلاء کیلئے کہا تھا لیکن ٹرمپ کا یہ وعدہ بھی پچھلے وعدوں جیسا نکلا، شام کو تقسیم کرنے کیلئے امریکہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے لوگ اپنے دفاع میں قانونی حق استعمال کررہے ہیں، یمن روز بمباری کا شکار ہوتا ہے

روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ ایران نے روس سے ایس 300میزائل سسٹم اور ترکی نے ایس 400میزائل سسٹم لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بھی چاہئے تو ایران کی طرح اس کا تحفظ بھی کرسکتے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں