روسی صدر نے پریس کانفرنس کے دوران کونسی قرآنی آیت کا حوالہ دیا؟ صحافی دنگ رہ گئے

روسی صدر ولادیمئیر پیوٹن نے یمن میں امن کیلئے قران شریف کی آیت مبارکہ کا حوالہ دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کےمطابق انقرہ میں ترک صدر اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ گفتگو میں پیوٹن نے سورۃ آل عمران کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’اور اس کے فضل سے تم آپس میں

بھائی بھائی بن گئے‘‘۔انہوں نے اس آیت کا مکمل حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ ’’ تم اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے‘‘۔واضح رہے روس کی جانب سے اس کے بڑھتے ہوئے کردار کے سبب جس میں وہ روایتی اسلام کو عالمی دھارے میں لانے کے لیے خود کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کررہا ہے ، نے اسے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ مذہب کے استعمال کو اپنے قومی مفادات کی تکمیل کےلیے استعمال کرسکے ۔ جیسا کہ افغان امن کی کوششوں میں اس کی جانب سے دیکھا جارہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس موقع پر کہا کہ ”روس بطور اس کانفرنس کے منتظم کے ، افغانستان کے علاقائی ہمسائیوں اور دوستوں کی اس مذاکراتی میز پر شمولیت کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے اور اپنی تمام ممکنہ خدمات افغانستان کے داخلی امن اور سلامتی کے لیے پیش کرتا ہے۔” روس کی جانب سے عالمی سطح پر مسلم رہنماؤں سے مشاورت سے ایک امر واضح ہوتا ہے کہ صدر پیوٹن مذہبی رہنماؤں اور مذہب کی طاقت سے آگاہ ہیں اور وہ نرم انداز سے اپنی طاقت کو سفارتکاری میں بروئے کار لاتے ہوئے داخلی اور عالمی سطح پر موجود عناصر کو متاثر کرسکتے ہیں ۔ روس کی مسلم ریاستوں میں موجود عناصر کے ساتھ مذہبی سفارتکاری کی ممکنہ وجوہات چاہے دفاع اور جیوپولیٹیکل تقاضوں کے ماتحت ہی ہوں، تاہم روسی یہ سیکھ چکے ہیں کہ سفارتکاری ہی مقاصد کے حصول کا واحد پرامن ذریعہ ہے اور اکیسویں صدی میں سفارتکاری کا تقاضہ مذہب کے ساتھ تعاون کرنا ہے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں