افغان صدر کی انتخابی ریلی میں دھماکا، 24 افراد ہلاک

افغانستان کے مرکزی صوبے پروان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ ریلی کے دوران دھماکے میں 24 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صحت حکام کا کہنا تھا کہ پروان میں صدر اشرف غنی کی جانب سے منعقدہ انتخابی ریلی کے قریب دھماکا ہوا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔

صوبائی ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقاسم سنگن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں ‘خواتین اور بچے شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر متاثرین شہری لگ رہے ہیں، علاقے میں ایمبولنسز موجود ہیں اور اموات میں اضافے کا خدشہ ہے’۔

شمالی صوبے پروان میں چھاراکر ہسپتال میں موجود ڈاکٹر عبدالقاسم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں 31 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب صدارتی مہم کے ترجمان حمید عزیز کا کہنا تھا کہ اشرف غنی وہاں موجود تھے لیکن وہ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا، ساتھ ہی انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا۔

ادھر پروان میں صوبائی گورنر کے ترجمان وحیدہ شاہکار کا کہنا تھا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب مقام کے داخلی راستے کی طرف ریلی گامزن تھی۔

ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم یہ دھماکا ایسے وقت میں ہوا جب بدامنی کا شکار افغانستان میں رواں ماہ کے اواخر میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے افغانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ووٹ نہ دیں کیونکہ وہ پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی مہمات کو نشانہ بنائیں گے۔

یاد رہے کہ 18 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے، جو گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے اعلان کے بعد منقطع ہوگئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کی وجہ انہوں نے افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوج کی ہلاکت کو قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور افغان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقات کو بھی معطل کردیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں