سعودی وزیر توانائی نے ایسی خبر سنائی کہ پوری دنیا کو سکھ کا سانس ملا

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ تیل منڈی کیلئے ترسیل حملوں سے قبل والی حالت پر آگئی، سعودی عرب سے تیل کی مکمل پیدوار ستمبر کے اختتام تک شروع ہو جائے گی تاہم پیدوار بحالی تک خریداروں کو اپنے ذخائر سے تیل فراہم کریں گے۔

 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خام تیل کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور یہ 71 ڈالر فی بیر ل تک پہنچ گئی تھی تاہم اب غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہناہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تیزی کے ساتھ بحالی کے باعث خام تیل کی قیمت میں 6 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حملوں سے پہلے جتنا تیل نکالا جارہا تھا اتنی ہی پیدوار اور ترسیل شروع کر دی گئی ہے ، سعودی عرب ستمبرکے آخرمیں یومیہ11ملین بیرل تیل نکالے گا جبکہ آئندہ نومبرکے اختتام سے قبل یومیہ پیداوار 12ملین بیرل یومیہ تک ہوجائےگی۔

ان کا کہناتھا کہ خشک گیس، ایتھن گیس اور سیال گیس کی پیداواررفتہ رفتہ بحال ہوگی،رواں ماہ کے اختتام تک گیس کی پیداوارمعمول پر آجائے گی۔ ان کا کہناتھا کہ آرامکو رواں ماہ کے دوران سارے معاہدے پورے کرے گی، تنصیبات پرحملے کامقصد بین الاقوامی تیل منڈی کو معطل کرناتھا،عالمی قوتیں حملوں کی پشت پناہی کرنےوالوں کا احتساب کریں۔

یاد رہے کہ خام تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے باعث پاکستان میں بھی اکتوبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا تاہم اب یہ امکانات مدہم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں