کوٹ لکھپت جیل وزیراعظم آفس لگنے لگا عمران خان بے خبر، جانتے ہیں سابق وزیراعظم سے ملنے کیلئے اچانک کون پہنچ گیا

لاہور (ویب ڈیسک) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم آفس ہے۔ یہ وزیراعظم آفس کس نے بنوایا اس کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیوروکریسی پر نظر رکھیں۔ اُس ملاقات سے پہلے اُس جیل میں قید ایک شخص کی اُس کی بیٹی سے کسی نے بات کروائی۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب آپ کے نہیں تو کم از کم وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت تو ہیں۔ جب آپ گھر میں سانپ پالیں گے تو پھر آپ کو تو ڈسیں گے ہی۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پیر کے روز اچانک خاندان سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی تھی جس پر چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ نواز شریف کو اچانک اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینا کیا کسی ڈیل ہو جانے کا اشارہ ہے؟ کل تک سابق وزیراعظم پر جیل میں سختیاں کی جا رہی تھیں، پھر پیر کے روز اچانک انہیں خاندانی افراد اور سیاسی رہنماوں سے ملاقاتیں کرنے کی خصوصی اجازت دے دی گئی۔

کیونکہ کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے اہل خانہ کی ملاقات کے لیے جمعرات جبکہ حمزہ شہباز کے لئے ہفتے کا دن مختص ہے تاہم شہباز شریف نے خصوصی اجازت کے بعد پیر کے روز نوازشریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس ملاقات کے دوران شہباز شریف نے پارٹی قائد محمدنواز شریف کو جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقات اور پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ کچھ لوگوں کی رائے میں شہباز شریف اور دیگر کو نواز شریف سے ملاقات کیلئے خصوصی اجازت دے کر خود حکومت نے ڈیل کا اشارہ دے دیا ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں