مودی سرکار کا بھارت میں ایک اور گھناونا اقدام، سربراہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اقدامات کرنے کی بجائے وہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھانے شروع کر دئے جس نے عالمی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جس پر بھارت نے تنقید کے جواب میں کشمیریوں کی حمایت کرنے والوں…

بھارت ایمنسٹی سربراہ کو ڈرایا، دھمکایا تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کے باوجود گروپ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آواز بلند کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ مالیاتی جرائم کی تفتیش کرنے والے بھارتی محکمے نے حال ہی میں ایمنسٹی کی مقامی برانچ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ زرمبادلہ کے حوالے سے بھارتی قواعد کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔

یہ الزام ایمنسٹی کی جانب سے کشمیر پر مودی حکومت کے اقدامات پر تنقید کے بعد سامنے آیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کُمی نائیڈو کے مطابق مودی حکومت نے بھارت میں ایمنسٹی کو کچلنے کی کوشش کی۔

ایمنسٹی انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں لاک ڈاؤن کو 40 روزسے زائد ہوچکے ہیں۔ نظربندی کے قوانین کے تحت ہزاروں سیاسی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں اورصحافیوں کو خاموش کروانا جاری ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں پیلک سیفٹی ایکٹ کو کئی بار غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جا چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداﷲ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا بھارتی حکومت کی جانب سے قانون کی کُھلی خلاف وزری ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک اورمثال ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے خلاف قانون کا ظالمانہ استعمال بھارتی حکومت کی بے ایمانی کو صاف ظاہر کرتا ہے ۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں