عمران خان کی بابر اعوان کو وزارت اطلاعات بنانے کی پیشکش بابر اعوان نے صاف انکار کرتے ہوئے کونسابڑا عہدہ مانگ لیا؟ وزیر اعظم بھی حیران رہ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) : وزیراعظم عمران خان سے پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کی ملاقات ہوئی تھی۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بابر اعوان کو ملاقات کے لیے بلایا تھا تو اطلاعات تھیں کہ انہیں وزارت اطلاعات دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعوان نے خان صاحب سے وزارت اطلاعات لینے سے معذرت کر لی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ استروں کی مالا ہے۔

وزارت اطلاعات بہت کم لوگ سنبھال پاتے ہیں۔یہ تو قمر زمان قائرہ جیسے نفیس انسان بھی نہ کر سکے۔شاید راجہ ظفر الحق نے ٹھیک سے کام کیا تھا۔ہارون الرشید نے کہا کہ بابر اعوان سینیٹر بننا چاہتے ہیں۔ا س سے ایک اور مطلب بھی نکل سکتا ہے کہ اور بھی وازارتیں جا سکتی ہیں۔
اس سے قبل ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بابر اعوان کو مشیر برائے پارلیمانی امور بنائے جائے گا،بابر اعوان اس سے قبل بھی مشیر پارلیمانی امور تھے تاہم نیب ریفرنس کے بعد اپنے عہدے سے مستفعی ہو گئے تھے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کا قلمدان تبدیل کر دیا جائے گا۔بابر اعوان کو مشیر کا عہدہ دینے کے لیے ایک وزیر کو استعفیٰ دینا پڑے گا،کابینہ میں پانچ مشیروں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔حفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین،ملک امین اسلم مشیر کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔واضح رہے نیب میں ریفرنس میں عائد الزامات کی وجہ سے بابر اعوان وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

نندی پور ریفرنس میں نام آنے پربابر اعوان نے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نندی پور پراجیکٹ 2007 ء میں مشرف دور میں آیا۔ اور 2012 ء میں نندی پور ریفرنس منظور ہوا۔ میرے خلاف کارروائیاں 2 افراد نے سیاسی مخالفین سے مل کر کیں۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کروں گا اور نیب الزامات غلط ثابت کروں گا۔ میرے خلاف پہلے دن سے ہی یک طرفہ کارروائی ہوئی۔

ایک قانون دان کی حیثیت سے عہدے سے چمٹے رہنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے تمام قانونی آپشنز استعمال کروں گا۔ عمران خان کی طرف سے قوم سے کیا گیا وعدہ نبھاتا ہوں اور استعفیٰ دیتا ہوں۔ بابر اعوان نے استعفیٰ ہاتھ سے لکھ کر وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا۔جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان کی جانب سے قوم سے کیا گیا وعدہ نبھاتے ہوئے مستعفیٰ ہوتا ہوں تاکہ نیب ریفرنس کے بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کرسکوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں تاخیر کا الزام ہے لیکن قانون دان کی حیثیت سے عہدے پر چمٹے رہنا مناسب نہیں سمجھتا اور قانون کی بالادستی کا عمل اپنی ذات سے شروع کررہا ہوں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں