مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 8 روز کی توسیع، تفصیل اس خبر میں

احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 8 روز کی توسیع کردی۔

احتساب عدالت لاہور کے جج امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کی جہاں نیب حکام نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔
نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری شوگر ملز میں میاں شریف،کلثوم نواز، حسین نواز ، مریم نواز سمیت شریف فیملی کے دیگر افراد بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھے، مریم نواز 1992 میں چیف ایگزیکٹو رہیں، چوہدری شوگر ملز کیلئے مختلف کمپنیوں سے قرضہ لیا گیا جس کے ریکارڈ کیلئے اسٹیٹ بینک سے رجوع کر رکھا ہے لہٰذا ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرے۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے، 1992 میں تمام جائیدادیں میاں شریف کے نام پر تھیں، 1992 سے 1999 تک میاں شریف نے پراپرٹی بچوں کے نام کردی، مریم نواز کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 8 روز کی توسیع کرکے انہیں نیب کی تحویل میں دے دیا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو نیب حکام نے چوہدری شوگر ملز کیس کے سلسلے میں 8 اگست کو کوٹ لکھپت جیل سے میاں نوازشریف سے ملاقات کے موقع پر گرفتار کیا تھا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں