نیب ایسااقدام کیوں اٹھائے گا، جس سے ملکی معیشت برباد ہو, چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی ناسور کی صورت اختیار کرچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کے پی کے نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوانی جیسے ناسور کا واحد علاج سرجری ہے، نیب نے 105 مقدمات میں ریفرنس دائر کیے ہیں، 40 مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹادیا گیا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ اس وقت 900 ارب کے 1210 ریفرنس زیر سماعت ہیں، بیوروکریسی کے خلاف مقدمات نہ ہونے کے برابر ہیں، کسی دھمکی یا لالچ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہی ہماری منزل ہے، ہمارا مقصد صرف منزل مقصود ہے اور وہ کرپشن فری پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا نیب کی تمام توجہ وائٹ کالرکرائم، میگاکرپشن کیسز پرمرکوزہے ، نیب کی موجودہ انتظامیہ نے شکایت کی تصدیق، انکوائری اور انوسٹی گیشن اور حتمی ریفرنس کا موثر نظام بنایا۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب راولپنڈی میں جدید ترین فورانزک سائنس لیبارٹری بھی قائم کردی گئی ہے اور انسداد رشوت ستانی کے شعبہ کو مربوط بنانے کے حوالہ سے چین کے ساتھ ایم او یو پر بھی دستخط کردیئے ہیں۔

یاد رہے چند روز قبل چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا تھا کہ ہماری وجہ سے بیوروکریسی کے کام نہ کرنے کے پروپیگنڈے کو رد کرتا ہوں، نیب ایسااقدام کیوں اٹھائے گا، جس سے ملکی معیشت برباد ہو۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں